براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 164
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۴ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم لبید ایک واقعہ گذشتہ کے حالات پیش کرتا ہے جن کا بیان کرنا انسانی قدرت کے اندر داخل ہے لیکن اب خدا تعالیٰ لبید کے کلام سے اپنی وحی کا تو ارد کر کے ایک واقعہ عظیمہ آئندہ کی خبر دیتا ہے جو انسانی طاقتوں سے باہر ہے پس وہی کلام جب لبید کی طرف منسوب کیا جائے تو معجزہ نہیں ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے تو بلا شبہ معجزہ ہے ۔ آج سے ایک سال پہلے اس بات کو کون جانتا تھا کہ ایک حصہ اس ملک کا زلزلہ شدیدہ کے سبب سے تباہ اور ویران ہو جائے گا یہ کس کو خبر تھی کہ اس قدر شہر اور دیہات یک دفعہ زمین میں دھنس کر تمام عمارتیں نابود ہو جائیں گی اور اُس زمین کی ایسی صورت ہو جائے گی کہ گویا اس میں کبھی کوئی عمارت نہ تھی پس اسی بات کا نام تو معجزہ ہے کہ کوئی ایسی بات ظہور میں آوے جو پہلے اس سے کسی کے خیال و گمان میں نہ تھی اور امکانی طور پر بھی اس کی طرف کسی کا خیال نہ تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اس ملک کے رہنے والوں نے اس زلزلہ شدیدہ کو بڑے تعجب کی نظر سے دیکھا ہے اور اس کو ایک غیر معمولی اور انہونی بات اور نمونہ قیامت قرار دیا ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ محققان یورپ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس ملک کی تاریخ پر سولہ سو برس تک نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ پہلے اس سے ایسا خوفناک اور تباہی ڈالنے والا زلزلہ اس ملک میں کبھی نہیں آیا۔ پس جس وحی نے ایک زمانہ دراز پہلے ایسے غیر معمولی واقعہ کی خبر دی کیا وہ خبر معجزہ نہیں ہے؟ کیا وہ انسانی طاقتوں کے اندر داخل کیے۔ جس ملک ۔ جس ملک کے لوگوں نے بلکہ ان کے کے باپ دادوں نے ☆ معترض صاحب نے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں پیسہ اخبار میں یہ اعتراض شائع کیا ہے کہ پیشگوئی عفت الديار محلها و مقامها میں زلزلہ کا کہاں ذکر ہے حالانکہ زلزلہ کا ذکر اس پیشگوئی سے پانچ ماہ پہلے اُسی اخبار میں شائع ہو چکا ہے۔ اور یہ پیشگوئی اسی زلزلہ کی صفات کا بیان ہے۔ ہمارے مخالفین کی یہ دیانت اور امانت اور یہ معقل اور یہ فہم ہے۔ کیا ان لوگوں میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں کہ خلوت میں اس شخص کو ملامت کرے اور اس کو گوشمالی کرے کہ ایسا دھوکا پبلک کو کیوں دیا حالانکہ اس کو خوب معلوم تھا کہ پرچہ الحکم ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء میں زلزلہ کی پیشگوئی صاف لفظوں میں موجود ہے جس کے ہیبت ناک نتائج الہام عفت الدیار میں ذکر کئے گئے ہیں اور یہ دونوں پیشگوئیاں ان کے ظہور سے ایک سال پہلے شائع کی گئی ہیں بلکہ زلزلہ کی پیشگوئی صریح اور صاف لفظوں میں مواهب الرحمن صفحہ ۸۶ میں بھی موجود ہے جس کو شائع کئے اڑھائی برس ہو چکے ہیں ۔ منہ