براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 150

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۰ براہین احمدیہ حصہ پنجم کیوں کریں گے وہ مدد اُن کو مدد سے کیا غرض ہم تو کافر ہو چکے اُن کی نظر میں بار بار پر مجھے رہ رہ کے آتا ہے تعجب قوم سے کیوں نہیں وہ دیکھتے جو ہو رہا ہے آشکار شکر اللہ میری بھی آہیں نہیں خالی گئیں کچھ بنیں طاعوں کی صورت کچھ زلازل کے بخار الى طرف طاعون خونی کھا رہا ہے ملک کو ہو رہے ہیں صد ہزاراں آدمی اس کا شکار دوسرے منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ جس سے اک محشر کا عالم تھا بصد شور و پکار ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دیئے جس قدر گھر گر گئے اُن کا کروں کیونکر شمار یا تو وہ عالی مکاں تھے زینت و زیب جلوس یا ہوئے اک ڈھیر اینٹوں کے پُر از گرد و غبار حشر جس کو کہتے ہیں اک دم میں برپا ہو گیا ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی اور اضطرار دب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر مر گئے لاکھوں بشر اور ہو گئے دنیا سے پار اس نشاں کو دیکھ کر پھر بھی نہیں ہیں نرم دل پس خدا جانے کہ اب کس حشر کا ہے انتظار وہ جو کہلاتے تھے صوفی کیں میں سب سے بڑھ گئے کیا یہی عادت تھی شیخ غزنوی کی یادگار کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زبدۃ الابرار ہیں پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ وحی رحماں کی پھوار پر وہی نا فہم ملہم اول الاعدا ہوئے آگیا چرخ بریں سے اُن کو تکفیروں کا تار سب نشاں بیکار اُن کے بغض کے آگے ہوئے ہو گیا تیر تعصب ان کے دل میں وار پار ۱۲۰ دیکھتے ہرگز نہیں قدرت کو اُس ستار کی گو سناویں اُن کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار صوفیا اب بیچ ہے تیری طرح تیری تراہ آسماں سے آگئی میری شہادت بار بار قدرت حق ہے کہ تم بھی میرے دشمن ہو گئے یا محبت کے وہ دن تھے یا ہوا ایسا نقار دھو دیئے دل سے وہ سارے صحبت دیریں کے رنگ پھول بن کر ایک مدت تک ہوئے آخر کو خار جس قدر نقد تعارف تھا وہ کھو بیٹھے تمام آہ کیا یہ دل میں گذرا ہوں میں اس سے دلفگار