براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 147

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم اُس کے آتے آتے دیں کا ہو گیا قصہ تمام کیا وہ تب آئے گا جب دیکھے گا اس دیں کا مزار کشتی اسلام بے لطف خدا اب غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر بے کار ہیں عقلوں کے وار مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا جوش و تپش جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار وہ لگادے آگ میرے دل میں ملت کے لئے شعلے پہنچیں جس کے ہردم آسماں تک بیشمار اے خدا تیرے لئے ہر ذرہ ہو میرا فدا مجھ کو دکھلا دے بہار دیں کہ میں ہوں اشکبار خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز کام تیرا کام ہے ہم ہو گئے اب بے قرار اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بچار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اس کے ظن غالب کو ہیں کرتے اختیار پھر یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجال کار زار باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار مرہم عیسی نے دی تھی محض عیسی کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار جھانکتے تھے نور کو لیک جب در کھل گئے پھر ہو گئے شیر شعار وہ روزن دیوار سے وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار پر ہوئے دیں کے لئے یہ لوگ مار آستیں دشمنوں کو خوش کیا اور ہو گیا آزردہ یار یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک حضرت آدم سے اسی قدر مدت بحساب قمری گذری تھی جو اس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے رو سے حضرت آدم سے اب ساتواں ہزار بحساب قمری ہے جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتا ہے اور یہ حساب جو سورۃ والعصر کے حروف کے اعداد کے نکالنے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہود و نصاری کے حساب سے قریباً تمام و کمال ملتا ہے صرف قمری اور شمسی حساب کو ملحوظ رکھ لینا چاہیے اور ان کی کتابوں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہو گئے کہ چھٹا ہزار گزر گیا ۔ منہ بقيه حاشيه