براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 143
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۳ براہین احمد یہ حصہ پنجم افترا کی ایسی دم لمبی نہیں ہوتی کبھی جو ہو مثل مدت فخر الرسل فخر الخيار حسرتوں سے میرا دل پر ہے کہ کیوں منکر ہو تم یہ گھٹا اب جھوم جھوم آتی ہے دل پر بار بار ۱۱۳ یہ عجب آنکھیں ہیں سورج بھی نظر آتا نہیں کچھ نہیں چھوڑا حسد نے عقل اور سوچ اور بچار قوم کی بد قسمتی اس سرکشی سے کھل گئی پر وہی ہوتا ہے جو تقدیر سے پایا قرار قوم میں ایسے بھی پاتا ہوں جو ہیں دنیا کے کرم مقصد اُن کی زیست کا ہے شہوت وخمر و قمار مکر کے بل چل رہی ہے اُن کی گاڑی روز و شب نفس و شیطاں نے اُٹھایا ہے انہیں جیسے کہار دیں کے کاموں میں تو اُن کے لڑکھڑاتے ہیں قدم لیک دنیا کے لئے ہیں نوجوان و ہوشیار حلت و حرمت کی کچھ پروا نہیں باقی رہی ٹھونس کر مُردار پیٹوں میں نہیں لیتے ڈکار لاف زہد و راستی اور پاپ دل میں ہے بھرا ہے زباں میں سب شرف اور پیچ دل جیسے چمار اے عزیز و کب تلک چل سکتی ہے کاغذ کی ناؤ ایک دن ہے غرق ہونا با دو چشم اشکبار جاودانی زندگی ہے موت کے اندر نہاں گلشن دلبر کی رہ ہے وادیء غربت کے خار اے خدا کمزور ہیں ہم اپنے ہاتھوں سے اُٹھا ناتواں ہم ہیں ہمارا خود اُٹھالے سارا بار تیری عظمت کے کرشمے دیکھتا ہوں ہر گھڑی تیری قدرت دیکھ کر دیکھا جہاں کو مردہ وار کام دکھلائے جو تو نے میری نصرت کے لئے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار کس طرح تو نے سچائی کو مری ثابت کیا میں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں پر شار ہے عجب اک خاصیت تیرے جمال وحسن میں جس نے اک چپکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار اے مرے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری قوم تیری قدرت سے نہیں کچھ دور گر پائیں سُدھار مجھ کو کافر کہتے ہیں میں بھی انہیں مومن کہوں گر نہ ہو پر ہیز کرنا جھوٹ سے دیں کا شعار مجھ پہ اے واعظ نظر کی یار نے تجھ پر نہ کی حیف اُس ایماں پہ جس سے کفر بہتر لاکھ بار