براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 137

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم یہ پیٹنا ہوگا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مر گئے جب کہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار ۱۰۷ ہے یہ گھر گرنے پہ اے مغرور لے جلدی خبر تا نہ دب جائیں ترے اہل وعیال و رشتہ دار یہ عجب بد قسمتی ہے کس قدر دعوت ہوئی پر اُترتا ہی نہیں ہے جام غفلت کا خُمار ہوش میں آتے نہیں سو سو طرح کوشش ہوئی ایسے کچھ سوئے کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار دن بڑے آئے اکٹھے ہو گئے قحط و و با اب تلک تو بہ نہیں اب دیکھئے انجام کار ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اِس اُمت کا قصوں پر مدار عقیده بر خلاف گفت دادار ہے پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر اِک یہی دیں کے لئے ہے جائے عزّ و افتخار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مشک تتار یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے در کھلیں یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے نگار بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے بس یہی اک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار ہے یہی وحی خدا عرفان مولی کا نشاں جس کو یہ کامل ملے اُس کو ملے وہ دوستدار واہ رے باغ محبت موت جس کی رہ گذر وصلِ یار اُس کا ثمر پر ارد گرد اُس کے ہیں خار ایسے دل پر داغ لعنت ہے ازل سے تا ابد جو نہیں اس کی طلب میں بے خود و دیوانہ وار پر جو دنیا کے بنے کیڑے وہ کیا ڈھونڈیں اُسے دیں اُسے ملتا ہے جو دیں کے لئے ہو بے قرار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار یاد وہ دن جب کہ کہتے تھے یہ سب ارکانِ دیں مہدی موعود حق اب جلد ہوگا آشکار