براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 100
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۰۰ براہین احمدیہ حصہ پنجم غرض وہ خدا جو بد گمانوں کے گندے خیالات کا بھی علم رکھتا ہے اُس نے مجھے یوسف قرار دے کر اور میری نسبت میری زبان سے یوسف علیہ السلام کا وہ قول نقل کر کے جو سورہ یوسف میں آچکا ہے یعنی یہ کہ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ - آئندہ زمانہ کی نسبت ایک پیشگوئی کی ہے تا وہ میرے اندرونی حالات کو لوگوں پر ظاہر کرے۔ اگرچہ میں یہ عادت نہیں رکھتا اور طبعا اس سے کراہت کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے اپنی دلی پاکیزگی ظاہر کروں بلکہ یوسف کی طرح میرا بھی یہی قول ہے کہ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي مگر خدا کے لطف وکرم کو میں کہاں چھپاؤں اور کیونکر میں اس کو پوشیدہ کردوں ۔ اُس کے تو اس قدر لطف و کرم ہیں کہ میں گن بھی نہیں سکتا۔ کیا عجیب کرم فرمائی ہے کہ ایسے زمانہ میں جبکہ بدگمانیاں نہایت درجہ تک پہنچ گئی ہیں خدا نے میرے لئے ہیبت ناک نشان دکھلائے ۔ مثلاً غور کرو کہ وہ شدید زلزلہ جس کی ۳۱ مئی ۱۹۰۴ء کو مجھے خبر دی گئی جس نے ہزار ہا انسانوں کو ایک دم میں تباہ کر دیا۔ اور پہاڑوں کو غاروں کی طرح بنا دیا اُس کے آنے کی کس کو خبر تھی ۔ کسی نجومی نے مجھ سے پہلے یہ پیشگوئی کی تھی وہ خدا ہی تھا جس نے قریباً ایک برس پہلے مجھے یہ خبر دی ۔ اُسی وقت لاکھوں انسانوں میں بذریعہ اخبارات شائع کی گئی ۔ اُس نے فرمایا کہ میں نشان کے طور پر یہ زلزلہ ظاہر کروں گا تا سعید لوگوں کی آنکھ کھلے۔ مگر میرے نزدیک براہین احمدیہ کی پیشگوئیاں اس سے کم نہیں ہیں جن میں اس زلزلہ شدیدہ کی بھی خبر ہے۔ اور یہ پیشگوئی یوسف قرار دینے کی بھی ایک ایسی پیشگوئی ہے جس نے اس زمانہ کے نہایت گندہ حملوں کی آج سے کچ سے پچیس سال پہلے خبر دی ہے۔ یہ وہ ناپاک حملے ، یہ وہ ناپاک حملے ہیں جو نادان مخالفوں کے آخری ہتھیار ہیں اور بعد اس کے فیصلہ کا دن ہے۔ اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس موقعہ پر خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا که قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون یہ اس شہادت سے زیادہ زبردست ہے جو سورہ یوسف میں یہ آیت ہے وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا ظاہر ا يوسف : ۲۷ ۲۵ ہے