براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 67

روحانی خزائن جلد 1 ۶۵ براہین احمدیہ حصہ دوم بندگان خدا کو ایک چشمہ فیض سے روکنا بڑا عیب ہے۔ مگر یادر ہے جو اس مقولہ سے کسی نوع کی خودستائی ہمارا مطلب نہیں جو تحقیقات ہم نے کی اور پہلے عالی شان فضلاء نے نہ کی یا جو دلائل ہم نے لکھیں اور انہوں نے لکھیں یہ ایک دی ایسا امر ہے جو زمانہ کے حالات سے متعلق ہے نہ اس سے ہماری ناچیز حیثیت بڑھتی ہے اور نہ ان کی بلندشان میں کچھ فرق آتا ہے۔ انہوں نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں ابھی خیالات فاسدہ کم پھیلے تھے اور صرف غفلت کے طور پر باپ دادوں کی تقلید کا بازار گرم تھا سوان بزرگوں نے اپنی تالیفات میں وہ روش اختیار کی جو ان کے زمانہ کی اصلاح کے لئے کافی تھی ہم نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں باعث زور خیالات فاسدہ کے وہ پہلی روش کافی نہ رہی بلکہ ایک پر زور تحقیقات کی حاجت پڑی جو اس وقت کی شدت فساد کی پوری پوری اصلاح کرے۔ یہ بات یا درکھنی چاہیے جو کیوں از منہ مختلفہ میں تالیفات جدیدہ کی حاجت پڑتی ہے اس کا باعث یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا یعنی کسی زمانہ میں مفاسد کم اور کسی میں زیادہ ہو جاتے ہیں اور کسی وقت کسی رنگ میں اور کسی وقت کسی رنگ میں پھیلتے ہیں اب مؤلف کسی کتاب کا جو ان خیالات کو مٹانا چاہتا ہے اس کو ضرور ہوتا ہے جو وہ طبیب حاذق کی طرح مزاج اور طبیعت اور مقدار فساد فساد اور اور قسم جسم فساد فساد پر پر نظ نظر کر کے اپنی تدبیر کو علی قدر ما ینبغی و على نحو ما ينبغی عمل میں لاوے اور جس قدریا جس نوع کا بگاڑ ہو گیا ہے اسی طور پر اس کی اصلاح کا بندو بست کرے اور وہی طریق اختیار کرے کہ جس سے احسن اور اسہل طور پر اس مرض کا ازالہ ہوتا ہو کیونکہ اگر کسی تالیف میں مخاطبین کے مناسب حال تدارک نہ کیا ہا جائے تو و وہ تالیف ہایت نکمی اور غیر مفید اور بے سود ہوتی ہے اور ایسی تالیف کے بیانات میں یہ زور ہر گز نہیں ہوتا جو منکر کی طبیعت کے پورے گہراؤ تک غوطہ لگا کر اس کے دلی خلجان کو بکلی مستاصل کرے۔ پس ہمارے معترضین اگر ذرا غور کر کے سوچیں گے تو ان پر