براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 65
روحانی خزائن جلد 1 ۶۳ براہین احمدیہ حصہ دوم حصوں کو اور ہزار ہا بندگانِ خدا کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی امید پر ہم نے قریب ڈیڑھ سو کے خطوط اور عرائض بھی لکھے اور یہ انکسار تمام حقیقت حال سے مطلع کیا مگر باستثناء دو تین عالی ہمتوں کے سب کی طرف سے خاموشی رہی نہ خطوط کا جواب آیا نہ کتابیں واپس آئیں ۔ مصارف ڈاک تو سب ضائع ہوئے لیکن اگر خدا نخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا افسوس جو ہم کو اپنے معزز بھائیوں سے بجائے اعانت کے تکلیف پہنچ گئی اگر یہی حمایت اسلام ہے تو کار دین تمام ہے۔ ہم بکمال غربت عرض کرتے ہیں کہ اگر قیمت پیشگی کتابوں کا بھیجنا منظور نہیں تو کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں ہم اسی کو عطیہ عظمی سمجھیں گے گے او اور احسان عظیم خیال کریں گے ورنہ ہمارا بڑا حرج ہوگا اور گم شدہ دوبارہ چھپوانا پڑے گا کیونکہ یہ پرچہ اخبار نہیں کہ جس کے ضائع ہونے میں کچھ مضائقہ نہ ہو هر یک حصہ کتاب کا ایک ایسا ضروری ہے کہ جس کے تلف ہونے سے ساری کتاب ناقص رہ جاتی ہے۔ برائے خدا ہمارے معزز اخوان سرد مہری اور لا پروائی کو کام میں نہ لائیں اور دنیوی استغناء کو دین میں استعمال نہ کریں اور ہماری اس مشکل کو سوچ لیں کہ اگر ہمارے پاس اجزا کتاب کے ہی نہیں ہوں گے تو ہم خریداروں کو کیا دیں ۔ ریداروں کو کیا دیں گے اور ان سے پیشگی روپیہ کہ جس پر چھپنا کتاب کا موقوف ہے کیونکر لیں گے۔ کام ابتر پڑ جائے گا اور دین کے امر میں جو سب کا مشترک ہے ناحق کی دقت پیش آ جائے گی ۔ امیدوار بود آدمی بخیر کسان مرا بخیر تو امید نیست بد مرسان ایک اور بڑی تکلیف ہے جو بعض نافہم لوگوں کی زبان سے ہم کو پہنچ رہی ہے اور وہ یہ ہے جو بعض صاحب کہ جن کی رائے بباعث کم تو جہی کے دینی معاملات میں صحیح نہیں ہے وہ اس حقیقت حال پر اطلاع پا کر جو کتاب براہین احمدیہ کی طیاری پر نو ہزار روپیہ خرچ آتا ہے بجائے اس کے جو دلی غمخواری سے کسی نوع کی اعانت کی طرف متوجہ ہوتے