براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 61
روحانی خزائن جلد 1 ۵۹ براہین احمدیہ حصہ دوم عرض ضروری بحالت مجبوری کرتے انسان کی کمزوریاں جو ہمیشہ اس کی فطرت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ہمیشہ اس کو تمدن اور تعاون کا محتاج رکھتی ہیں اور یہ حاجت تمدن اور تعاون کی ایک ایسا بد یہی امر ہے کہ جس میں کسی عاقل کو کلام نہیں۔ خود ہمارے وجود کی ہی ترکیب ایسی ہے کہ جو تعاون کی ضرورت پر اول ثبوت ہے۔ ہمارے ہاتھ اور پاؤں اور کان اور ناک اور آنکھ وغیرہ اعضاء اور ہماری سب اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایسی طرز پر واقع ہیں کہ جب تک وہ باہم مل کر ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تب تک افعال ہمارے وجود کے علی مجری الصحت ہرگز جاری نہیں ہو سکتے اور انسانیت کی کل ہی معطل پڑی رہتی ہے۔ جو کام دو ہاتھ کے ملنے سے ہونا چاہیے ، وہ وہ محض ایک ہی ہاتھ سے انجام نہیں ہو سکتا اور جس راہ کو دو پاؤں مل کر طے کر ۔ ہیں وہ فقط ایک ہی پاؤں سے طے نہیں ہو سکتا اسی طرح تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہو رہی ہے۔ کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ کوئی کام دینی ہو یا د نیوی بغیر معاونت با ہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔ ہر یک گروہ کہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضا یکدیگر ہے اور ممکن نہیں جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت با ہمی ان کی کے بخوبی و خوش اسلوبی ہو سکے بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہو سکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہر گز نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا ۔ انبیاء علیہ السلام جو تو کل اور تفویض اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی بہ رعایت سہو کتابت معلوم ہوتا ہے علیہم السلام‘ ہونا چاہیے۔ (ناشر) الف