براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 726
۔نیز چونکہ تعلیم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ) شاگرد کی(عقل کے مطابق سمجھایا جائے۔اس لئے دو راستے کھول دئیے گئے ہیں تا کہ ہر طبیعت کا <mark>انسان</mark> خدا تک پہنچ سکے۔تا کہ ذہین اور غبی شریف اور رذیل اُس بے مثل خدا کی طرف راہ <mark>پا</mark>ئیں۔ایک اور <mark>دل</mark>یل بھی اُس رحمان کی وحی کی ضرورت پر یہ ہے۔کہ خدائے واحد کی اس قدر شہرت صرف عقلوں کی کوشش سے نہیں ہو سکتی تھی۔اگر خدا خود ہی نہ کہتا کہ میں مو<mark>جو</mark>د ہوں تو سارا جہاں اس کے سامنے سر بس<mark>جو</mark>د کیوں ہوتا۔اُس یار کی ہستی کے متعلق اُس شور سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا عالم اس کا عا ِشق زار ہے۔یہ) شور(بھی رب العالمین نے خود ہی ڈالا ہے نہ کہ آدمی نے اُس پر احسان کیا ہے۔افسوس یہ کیسے <mark>انسان</mark> ہیں <mark>جو</mark> خدا کو چھوڑ <mark>کر</mark> خودی میں پڑگئے۔جب وحی کا فیضان ہی نہ تھا تو عقل کہاں سے آگئی آنکھ کا و<mark>جو</mark>د تو آفتاب کی وجہ سے ہے۔اگر سورج اپنا نور نہ دیتا تو ہماری آنکھ خود بخود کس طرح دیکھ سکتی۔گل کے فیضان سے بلبل نے بات <mark>کر</mark>نا سیکھی وہی شخص اس بات سے من<mark>کر</mark> ہو سکتا ہے <mark>جو</mark> اپنی آنکھیں بند <mark>کر</mark> لے۔سارا جہان خدا کی نعمتوں کا گواہ ہے لیکن بے وقوف خدا کی وحی اور القا کا من<mark>کر</mark> ہے صفحہ ۳۷۸۔اپنے <mark>دل</mark> میں <mark>پا</mark>ک لوگوں کی محبت بٹھاتا کہ اے جانِ مَن تو بھی <mark>پا</mark>کوں میں داخل ہو جائے۔یہ عقل تو ساری مخلوقات کے <mark>پا</mark>س ہے اس پر ناز نہ <mark>کر</mark> کیونکہ تیرے جیسے بہت ہیں۔یار کے سوا ہمارا علاج اور کہاں ہے ہماری ہستی کیا اور ہماری کمزور عقل ہی کیا۔تو جدائی کا زہر چکھ رہا ہے اور نامراد ہے اس پر بھی وحی والہام سے من<mark>کر</mark> ہے۔<mark>پا</mark>نی نہ پینے کی وجہ سے تو جاں بلب ہے پھر بھی آبِ حیات سے منہ پھیر رکھا ہے۔خود تو اندھا ہے اور آنکھوں والوں سے دشمنی رکھتا ہے تیری بدبختی اور نقصان پر افسوس ہے۔درد <mark>دل</mark> کی دوا ہماری عقل نہیں ہے وہ دوا تو وحی الٰہی کے شفاخانہ میں ہے۔سونے کا تصور سونا نہیں ہوا <mark>کر</mark>تا بلکہ سونا وہی ہے <mark>جو</mark> نظر آجائے