براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 708 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 708

۔جب وہ <mark>پا</mark>ک نور ان میں رچ گیاتو پردہ میں سے بدر <mark><mark>کامل</mark></mark> چمکا۔وہ ظلمت کے حجابوں سے دور ہو گیا اور سراسر نورانی و<mark>جو</mark>د بن گیا۔اُن کے <mark>دل</mark> کو ایک مخفی کشش سے خدا کے عشق کی طرف مائل <mark>کر</mark> دیا۔عشق نے اتنا تیز گھوڑا دوڑایا کہ اس مُشتِ خاک کا کچھ بھی باقی نہ رہا۔نہ خودی رہی نہ حرص وہوا ہی رہی گویا <mark>کسی</mark> کا سر خاک اور خون میں پڑا ہو۔وہ خدا کے جلال کے عاشق ہیں اور خدا کی نہر کے مصفّٰی <mark>پا</mark>نی کے طالب۔عشق سے بھر گئے اور ہر لالچ سے خالی ہو گئے۔عشق نے ان کو قتل <mark>کر</mark> دیا اور ان کی آواز بھی نہ نکلی۔اپنے و<mark>جو</mark>د کی آلودگی سے <mark>پا</mark>ک ہو گئے اور اپنی خود پرستی کی قید سے آزاد۔یار نے ان کو اس طرح اپنی کمند میں جکڑ لیا کہ اور <mark>کسی</mark> سے اُن کا تعلق نہیں رہا صفحہ ۳۶۱۔نیستی کی راہ پر چل پڑے اور خدا کی یادمیں سر سے پیر تک غرق ہو گئے۔محبوب کا ذ<mark>کر</mark> ان کی زندگی کی لطیف غذا ہے یہی ان کی زندگی کا مقصود اور حیات کا خلاصہ ہے۔سوائے <mark>دل</mark>دار کے انہوں نے ہر غرض کو جلا ڈالا اور محبوب کے سوا ہر طرف سے اپنی آنکھیں بند <mark>کر</mark> لیں۔ایک ہی صورت پر اپنا <mark>دل</mark> وجان تصدق <mark>کر</mark> دیا اور اُسی کے وصل کو اپنا اصلی مقصد بنا لیا۔مر گئے اور اپنے تئیں فنا <mark>کر</mark> دیا۔عشق <mark>جو</mark>ش میں آیا اور اس نے بڑے بڑے کام کئے۔خودی کے مقام سے جدا ہو گئے۔محبت کی رَو زور کی تھی۔بہا <mark>کر</mark> لے گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے خدا کے نور کو <mark>پا</mark>لیا۔جب خودی چلی گئی تو خدا ظاہر ہو گیا۔جب جسم کمزور ہو گیا تو محبوب آگیا۔جب <mark>دل</mark> ہاتھ سے نکل گیا تو جان یعنی محبوب مل گیا۔<mark>دل</mark>بر کی محبت ان کے چہرے پر ظاہر ہو گئی اور رحمت کا ابر ان کے گلی کوچوں میں برسا۔اس <mark>پا</mark>ک قوم کی وہ عزت ہے کہ ساری دنیا بھی اس تک نہیں پہنچ سکتی۔جب وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو خدائی فیوض کے مورد بن جاتے ہیں۔اگر خدا سے <mark>کسی</mark> راز کا کشف چاہتے ہیں تو حضور خداوندی سے الہام کئے جاتے ہیں