براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 672
روحانی خزائن جلد 1 ٦٧٠ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۵۵۹ انکلوں تک ہے جن سے روح کو حقیقی انشراح اور عرفان حاصل نہیں ہوتا اور اندرونی آلائشوں سے پاکیزگی میسر نہیں آتی بلکہ ایسا انسان فقط سفلی خیالات کا بندہ بن کر مقامات حریری کے ابوزید کی طرح اپنے علوم وفنون کو مکر و فریب کا آلہ بناتا ہے اور سب لسانی اور خوش بیانی اُس کی دام تزویر ہی ہوتی ہے۔ کیا انسان کی کمزور عقل اپنی تنہائی کی حالت میں اس کو اس محبس سے نکال سکتی ہے کہ جو جذبات نفس اور جہل اور غفلت کی وجہ سے اس کے نصیب ہو رہا ہے۔ کیا انسانی خیالات میں کوئی ایسی طاقت بھی موجود ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کے علم اور قوت سے تک رائے میری ایک محکم یقین پر قائم ہے اور بہت مضبوط امید سے میں خیال رکھتا ہوں کہ جب ہمارے منصف مزاج مخالفین نہایت غائر اور عمیق نظر سے اس طرف متوجہ ہوں گے تو خود ان کی اپنی نگاہیں ان کے وساوس دور کرنے کے لئے کافی ہوں گی ۔ مجھے امید تھی ۵۶۲ فيه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۴ كل يوم هو في شان۔ ففهمنا ها سلیمان و جحدوا بها و استيقنتها انفسهم ظلما وعلوا۔ سنلقي في قلوبهم الرعب ۔ قل جاء كم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مؤمنين۔ سلام علی ابراهيم صافيناه و نجيناه من الغم تفردنا بذالك۔ فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلی۔ اور کہیں گے کہ یہ جھوٹ بنا لیا ہے ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء سلف میں یہ نہیں سنا حالانکہ بنی آدم یکساں پیدا نہیں کئے گئے بعض کو بعض پر خدا نے بزرگی دی ہے اور ان کو دوسروں میں سے چن لیا ہے یہی سچ ہے تا مومنوں کے لئے نشان ہو کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہمارے عجیب کام فقط اصحاب کہف تک ہی ختم اصحاب کہف تک ہی ختم ہیں نہیں بلکہ خدا تو ہمیشہ صاحب عجائب ہے اور اس کے عجائبات کبھی منقطع نہیں ہوتے ۔ ہر ایک دن میں وہ ایک شان میں ہے پس ہم نے وہ نشان سلیمان کو سمجھائے یعنی اس عاجز کو اور لوگوں نے محض ظلم کی راہ سے انکار کیا حالانکہ ان کے دل یقین کر گئے ۔ سو عنقریب ہم ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کہہ خدا کی طرف سے نو را تر ا ہے سو تم اگر مومن ہو تو انکا ر مت کرو۔ ابراہیم پر سلام ہم نے اُس کو خالص کیا اور غم سے نجات دی۔ ہم نے ہی یہ کام کیا ۔ سوتم ابراہیم کے نقش قدم پر چلو یعنی رسول کریم کا طریقہ حقہ کہ جو حال کے زمانہ میں اکثر لوگوں پر مشتبہ ہو گیا ہے اور بعض یہودیوں کی طرح