براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 667 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 667

روحانی خزائن جلد 1 ۶۶۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبر ا کی خبر لیتا ہے اور اُن کو ہلاکت سے بچاتا ہے اور جیسے وہ جسمانی سختی کے وقت رحم فرماتا ہے اسی طرح جب روحانی سختی یعنی ضلالت اور گمراہی اپنی حد کو پہنچ جاتی ہے اور لوگ راہ راست پر قائم نہیں رہتے تو اس حالت میں بھی وہ ضرور اپنی طرف سے کسی کو مشرف بوجی کر کے اور اپنے نور خاص کی روشنی عطا فرما کر ضلالت کی مہلک تاریکی کو اس کے ذریعہ سے اٹھاتا ہے اور چونکہ جسمانی رحمتیں عام لوگوں کی ۵۵۵ نگاہ میں ایک واضح امر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت ممدوحہ میں اول ضرورت فرقان مجید جوش مار رہے ہیں ۔ اب یہ کیونکر ہو سکے کہ کوئی شخص صرف مونہہ کی واہیات باتوں سے اس نور بزرگ کی کسر شان کرے۔ ہاں اگر کسی کے دل کو یہ وہم پکڑتا ہے کہ یہ تمام دقائق و معارف و لطائف و خواص کہ جو قرآن شریف میں ثابت کر کے دکھلائے گئے ہیں کسی دوسری ۵۵۸ کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا یعنی رفع درجات کروں گا یا دنیا سے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو ان پر جو منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی تیرے ہم عقیدہ اور ہم مشربوں کو حجت اور برہان اور برکات کے رو سے دوسرے لوگوں پر قیامت تک فائق رکھوں گا۔ پہلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک گروہ ہے۔ اس جگہ عیسی کے نام سے بھی یہی عاجز مراد ہے اور پھر بعد اس کے اردو میں الہام فرمایا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا ۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔الـفـتـنـة هـهـنـا فـاصـبـر كما صبر اولو العزم ۔ اس جگہ ایک فتنہ ہے سوا اولو العزم نبیوں کی طرح صبر کر ۔ فلما تجلى ربه للجبل جعله دکا ۔ جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا ۔ قوة الرحمان لعبيد الله الصمد ۔ یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندہ کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا ۔ مقام لا تترقى العبد فيه بسعى الاعمال ۔ یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہے کہ جو بطریق موہبت خاص عطا ہوتا ہے کوششوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ یاداء ود عامل بالناس رفقا (۵۵۸) واحسانا واذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منها ۔ واما بنعمت ربک فحدث بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۴