براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 655 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 655

روحانی خزائن جلد 1 ۶۵۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم یہ امر اس کی افضلیت کا موجب ہوگا سو : و جب ہوگا سو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیاء وسلم افضل الانبیاء اور ۵۴۵ سب رسولوں سے بہتر اور بزرگتر تھے اور خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ جیسے آنحضرت اپنے ذاتی جوہر کے رو سے فی الواقعہ سب انبیاء کے سردار ہیں ایسا ہی ظاہری خدمات کے رو سے بھی ان کا سب سے فائق اور برتر ہونا دنیا پر ظاہر اور روشن ہو جائے اس لئے خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محنتیں اور کوششیں عام طور پر ظہور میں آئیں ۔ موسیٰ اور ابن مریم کی طرح ایک خاص بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۴ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ 1 یعنی اگر تمہیں اس کلام کے منجانب اللہ ہونے میں کچھ شک ۵۴۷ ہے تو تم اس کے کسی سورہ کی مانند کو ئی کلام بنا کر دکھاؤ اور اگر تم بنا نہ سکو اور صاحب نے فتوح الغیب کے کئی مقامات میں اس کی تصریح کی ہے۔ اور اگر اولیاء اللہ کے ملفوظات اور مکتوبات کا تجسس کیا جائے تو اس قسم کے بیانات ان کے کلمات میں بہت سے پائے جائیں گے اور اُمت محمدیہ میں محدثیت کا منصب اِس قد ر بکثرت ثابت ہوتا ہے جس سے انکار کرنا بڑے غافل اور بے خبر کا کام ہے ۔ اس امت میں آج تک ہزارہا اولیاء اللہ صاحب کمال گزرے ہیں جن کی خوارق اور کرامات بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ثابت اور متحقق ہو چکی ہیں اور جو شخص تفتیش کرے اس کو معلوم ہوگا کہ حضرت احدیت نے جیسا کہ اس امت کا خیر الامم نام رکھا ہے ایسا ہی اس امت کے اکابر کو سب سے زیادہ کمالات بھی بخشتے ہیں جو کسی طرح چھپ نہیں سکتے اور اُن سے انکار کرنا ایک سخت درجہ کی حق پوشی ہے ۔ اور نیز ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ الزام کہ صحابہ کرام سے ۵۴۷ ایسے الہامات ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا اور غلط ہے کیونکہ احادیث صحیحہ کے رو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے الہامات اور خوارق بکثرت ثابت ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ساریہ کے لشکر کی خطرناک حالت سے با علام الہی مطلع ہو جانا جس کو بیہقی نے ابن عمر سے البقرة : ۲۵