براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 648 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 648

روحانی خزائن جلد 1 ۶۴۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہے مگر کامل طور پر اس وقت آئی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا دن آ پہنچا تھا کیونکہ اس وقت تمام دنیا پر ایسی کامل گمراہی کی تاریکی پھیل چکی تھی جس کی مانند کبھی نہیں پھیلی تھی اور نہ آئندہ کبھی پھیلے گی جب تک ق گی جب تک قیامت نہ آوے۔ غرض جب یہ ظلمت ا اپنے اس انتہائی نقطہ تک پہنچ جاتی ہے کہ جو اس کے لئے مقدر ہے تو عنایت الہیہ تنویر عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور کوئی صاحب نور دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو اس کی طرف مستعد روحیں کھینچی چلی آتی ہے اور پاک فطرتیں خود بخود رو بحق ہوتی چلی جاتی ہیں اور جیسا کہ ہرگز ممکن نہیں کہ شمع کے روشن ہونے سے پروانہ اس طرف رخ نہ کرے ایسا ہی یہ بھی غیر ممکن ہے کہ بروقت ظہور کسی صاحب نور کے صاحب فطرت سلیمہ کا اس کی طرف با رادت متوجہ نہ ہو۔ ان آیات میں جو خدائے تعالیٰ نے بیان اور بہت سے اسرار مخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق اور معارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پُر کر دیا ہے اور بار ہا بتلا دیا ہے کہ یہ سب عطیات اور عنایات اور یہ سب تفضلات اور احسانات اور یہ سب تلطفات اور توجہات اور یہ سب انعامات اور تائیدات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات بیمن متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ بقیه حاشیه نمبراا جمال هم نشین در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم که هستم اب وہ واعظان انجیل اور پادریان گم کردہ سبیل کہاں اور کدھر ہیں کہ جو پرلے درجہ کی اے بصد انکار وکیس از کودنی رو در حق زن چرا سر می زنی ۵۴۱ ۵۴۲ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ نالہا گن کے خداوند یگاں بگسلال از پائے من بند گراں تا مگر زاں نالہائے درد ناک بے عنایات خدا کار است خام پخته داند این سخن را والسلام دست غیبی گیردت ناگهه ز خاک منه