براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 641 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 641

روحانی خزائن جلد 1 ۶۳۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم آیت ممدوحہ میں اشارہ فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ایک ایسی رات میں نازل کیا ہے جس میں بندوں کی اصلاح اور بھلائی کے لئے صراط مستقیم کی کیفیت بیان کرنا اور شریعت اور دین کی حدود کو بتلانا از بس ضروری تھا یعنی جب گمراہی کی تاریکی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ جیسی سخت اندھیری رات ہوتی ہے تو اس وقت رحمت الہی اس طرف متوجہ ہوئی کہ اس سخت اندھیری کے اٹھانے کے لئے ایسا قوی نور نازل کیا جائے کہ جو اس اندھیری کو دور کر سکے۔ سوخدا نے قرآن شریف کو نازل کر کے اپنے بندوں کو وہ عظیم الشان نور عطا کیا کہ جو شکوک اور شبہات کی اندھیری کو دور کرتا ہے اور روشنی کو پھیلاتا ہے۔ اس جگہ جاننا چاہئے کہ اس باطنی لیلۃ القدر کو ظاہری لیلۃ القدر سے کہ جو عند العوام مشہور ہے کچھ منافات نہیں بلکہ عادت اللہ اسی طرح ۵۳۴ پر جاری ہے کہ وہ ہر یک کام مناسبت سے کرتا ہے اور حقیقت باطنی کے لئے ملتی ہے۔ یہ دونوں قسم کے ثبوت اسلام کے غیر میں ہر گز نہیں پائے جاتے اور نہ ان کو طاقت ہے کہ اس کے مقابلہ پر کچھ دم مارسکیں لیکن اسلام میں وجود اس کا متحقق ہے سواگر ان دونوں قسم کے ثبوت میں سے کسی قسم کے ثبوت میں شک ہو تو اسی جگہ قادیان میں آکر اپنی تسلی کر لینی چاہئے ۵۳۵ اور یہ بھی پنڈت صاحب کو لکھا گیا کہ معمولی خرچ آپ کی آمد ورفت کا اور نیز واجبی خرچ خوراک کا ہمارے ذمہ رہے گا اور وہ خط اُن کے بعض آریوں کو بھی دکھلایا گیا اور دونوں رجسٹریوں کی ان کی دستخطی رسید بھی آگئی پر انہوں نے حُبّ دنیا اور ناموس دُنیوی کے باعث سے بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ پر از اعجاز است آن عالی کلام نور یزدانی در و رشد تمام بر دریده پرده کفار از خدائی ها نموده کار را آفتاب است و کند چون آفتاب گرنه کوری بیا بنگر شتاب اے مزوّر گر بیائی سوئے ما واز وفا رخت افگنی در کوئی ما را ۵۳۵