براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 609
روحانی خزائن جلد 1 ٦٠٧ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ بصدق دل قبول کرلیا ہے تو جو کچھ انوار و آثار بعد متابعت کامل کے مترتب ۵۱۰ اس فنا سے طیار ہوتا ہے ۔ جوں جوں بندہ کا نفس شکست پکڑتا جاتا ہے اور اس کا فعل اور ارادت اور رو بخلق ہونا فنا ہوتا جاتا ہے توں توں پیدائش روحانی کے اعضاء بنتے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب فناء اتم حاصل ہو جاتی ہے تو وجود ثانی کی خلعت عطا کی جاتی ہے الہام متذکرہ بالا میں اس عاجز کی تشبیہ حضرت موسیٰ سے دی گئی ۔ اور یہ تمام برکات حضرت سید الرسل کے ہیں جو خدا وند کریم اس کی عاجز امت کو اپنے کمال لطف اور احسان سے ایسے ﴿۵۰۹ ایسے مخاطبات شریفہ سے یا دفرماتا ہے ۔ اللهم صل على محمد وال محمد ۔ پھر بعد اس کے یہ الہامی عبارت ہے۔ واذا قيل لهم أمنوا كما أمن الناس قالوا انؤمن كما أمن السفهاء الا انهم هم السفهاء ولكن لا يعلمون و يحبون ان تدهنون۔ قل يايها الكفرون لا أعبد ما تعبدون۔ قيل ارجعوا الى الله فلا ترجعون۔ وقيل استحوذ وافلا تستحوذون ۔ ام تسئلهم من خرج فهم من مغرم مثقلون۔ بل اتيناهم بالحق فهم للحق كارهون۔ سبحانه وتعالى عما يصفون۔ احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا أمنا وهم لا يفتنون۔ يحبون ان يحمدوا بمالم يفعلوا۔ ولا يخفى على الله خافية۔ ولا يصلح شيء قبل اصلاحه۔ ومن ردّ من مطبعه فلا مردله ۔ اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں خبردار ہو وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ اور یہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے مداہنہ کرو۔ کہہ اے کا فرو میں اس چیز کی پرستش نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو۔ تم کو کہا گیا کہ خدا کی طرف رجوع کرو سوتم رجوع نہیں کرتے ۔ اور تم کو کہا گیا جو تم اپنے نفسوں پر غالب آ جاؤ سو تم غالب نہیں آتے ۔ کیا تو ان لوگوں سے کچھ مزدوری مانگتا ہے۔ پس وہ اس تاوان کی وجہ سے حق کو قبول کرنا ایک پہاڑ سمجھتے ہیں بلکہ ان کو مفت حق دیا جاتا ہے اور وہ حق سے کراہت کر رہے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اُن عیبوں سے