براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 585
روحانی خزائن جلد 1 ۵۸۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم ممکن تھا کہ وہ لوگ قرآن شریف سے اپنے مذہب کی آپ ہی مذمت کرواتے ۔ اور اپنی کتابوں کا آپ ہی رد لکھاتے اور اپنے مذہب کی بیخ کنی کے آپ ہی موجب بن جاتے پس یہ سست اور نادرست باتیں اس لئے دنیا پرستوں کو بکنی پڑیں کہ اُن کو عاقلانہ طور پر قدم مارنے کا کسی طرف راستہ نظر نہیں آتا تھا اور آفتاب صداقت کا ایسی پر زور روشنی سے اپنی کرنیں چاروں طرف چھوڑ رہا تھا کہ وہ اس سے چمگادڑ کی طرح چھپتے پھرتے تھے اور کسی ایک بات پر ان کو ہرگز ثبات و قیام نہ تھا بلکہ تعصب اور شدت عناد نے ان کو سودائیوں اور پاگلوں کی طرح بنا رکھا تھا۔ پہلے تو قرآن کے قصوں کو سن کر جن میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا ذکر تھا اس وہم میں پڑے کہ شاید ایک شخص اہل کتاب میں سے ! باب میں سے پوشیدہ طور پر یہ قصے یہ قصے سکھاتا ہوگا جیسا ان کا یہ مقولہ قرآن شریف میں درج ہے۔ اِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَر الصورة الخل الجزو نمبر ۱۴ - ۳۹۱) خدا کا وہ فیضان ثابت کرنا ہے جو محنت اور کوشش پر مترتب ہوتا ہے۔ سو یہ مقصد لفظ رحیم میں آگیا۔ پانچواں مقصد قرآن شریف کا عالم معاد کی حقیقت بیان کرنا ہے۔ سو یہ مقصد مَالِكِ يَوْمِ الدِّین میں آگیا۔ چھٹا مقصد قرآن شریف کا اخلاص اور عبود تیت اور تزکیہ نفس عن غیر اللہ اور علاج امراض ۴۹۱ روحانی اور اصلاح اخلاق دی اور توحید ی العبادت کا بیان کرنا ہے۔ سو یہ مقصد ایساكَ نَعْبُدُ میں بطور اجمال آ گیا ۔ ساتواں مقصد قرآن شریف کا ہر ایک کام میں فاعل حقیقی خدا کو ٹھہرانا اور تمام توفیق اور بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ نام نہیں رہے گا اور خدا تجھ سے ابتدا شرف اور مسجد کا کرےگا۔ نصرت بالرعب واحييت بالصدق ايها الصديق۔ نصرت وقالوا لات حين مناص تو رعب کے ساتھ مدد کیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا ۔ اے صدیق تو مدد کیا گیا۔ اور مخالفوں نے کہا کہ اب گریز کی جگہ نہیں ۴۹۱ یعنی امداد الہی اس حد تک پہنچ جائے گی کہ مخالفوں کے دل ٹوٹ جائیں گے اور ان کے دلوں پر یاس مستولی ہو جائے گی اور حق آشکارا ہو جائے گا۔ وما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث ا النحل : ۱۰۴