براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 583
روحانی خزائن جلد 1 ۵۸۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم بد باطن تھے ان کے حالات پر بھی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی یہ یقین کامل آنحضرت کو امی جانتے تھے اور اسی لئے جب وہ بائیبل کے بعض قصے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور امتحان نبوت پوچھ کر ان کا ٹھیک ٹھیک جواب پاتے تھے تو یہ بات ان کو زبان پر لانے کی مجال نہ تھی کہ آنحضرت کچھ پڑھے لکھے ہیں ۔ ﴿۴۸۹ آپ ہی کتابوں کو دیکھ کر جواب بتلا دیتے ہیں بلکہ جیسے کوئی لاجواب رہ کر اور گھسیانا بن کر کچے عذر پیش کرتا ہے ایسا ہی نہایت ندامت سے یہ کہتے تھے کہ شاید در پردہ کسی ام الکتاب اور سورة الجامع ہے۔ اُمّ الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قرآنیہ اُس سے مستخرج ہوتے ہیں۔ اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا۔ غرض قرآن شریف اور حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ سورۃ ۴۸۹ فاتحہ ممدوحہ ایک آئینہ قرآن نما ہے۔ اس کی تصریح یہ ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمام محامد کاملہ باری تعالیٰ کو بیان کرتا ہے اور اُس کی ذات کے لئے جو کمال تام حاصل ہے اس کو بوضاحت بیان فرماتا ہے۔ سو یہ مقصد الْحَمْدُ لِلہ میں بطور ا جمال آ گیا کیونکہ اُس کے یہ معنے ہیں کہ تمام محامد کاملہ اللہ کے لئے ثابت ہیں جو ستجمع جمیع کمالات اور مستحق الہامات میں کی جائے وہ حقیقی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ہوتی ہے اور وہ مومن بقدر اپنی متابعت کے اس مدح سے حصہ حاصل کرتا ہے۔ اور وہ بھی محض خدائے تعالیٰ کے لطف اور ۴۸۹ احسان سے نہ کسی اپنی لیاقت اور خوبی سے۔ پھر بعد اس کے فرمایا انت وجيه في حضرتی اختر تک لنفسی تو میری درگاہ میں وجیہ ہے میں نے تجھے اپنے لئے اختیار کیا۔ انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی فحان ان تعان و تعرف بين الناس ۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا 2 میری توحید اور تفرید سو دہ وقت آگیا جو تیری مدد کی جائے اور تجھ کو لوگوں میں معروف و مشہور کیا بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳