براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 578
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۵۷۶ روحانی خزائن جلد 1 غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی ہونا عربوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی نظر میں ایسا بدیہی اور یقینی امر تھا کہ اس کے انکار میں کچھ دم نہیں مار سکتے تھے بلکہ اسی جہت سے وہ توریت کے اکثر قصے جو کسی خواندہ آدمی پر مخفی نہیں رہ سکتے بطور امتحان نبوت آنحضرت پوچھتے تھے اور پھر جواب صحیح اور درست پاکر ان فاش غلطیوں سے مبرا دیکھ کر جو توریت کے قصوں میں پڑ گئے ہیں وہ لوگ جو ان میں راسخ فی العلم تھے بصدق بــــقيــــــه حـــــــاشيــــه نمبراا ، حاشیه در در حاشیه نمبر ۳ دلی ایمان لے آتے تھے جن کا ذکر قرآن شریف میں اس طرح پر درج ہے :۔ اور راستی سے موصوف ہے جس میں ذرا کجی نہیں سو اس آیت میں ذاتی خوبی اس راستہ کی بیان فرما کر اس کے حصول کے لئے ترغیب دی۔ دوسری جز ترغیب کی یہ ہے کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس شے کے فوائد بیان کئے جائیں ۔ سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اس راستہ پر ہم کو چلا جس پر چلنے سے پہلے سالکوں پر انعام اور کرم ہو چکا ہے۔ سو اس آیت میں راستہ چلنے والوں کا کامیاب ہونا ذکر فرما کر اس راستہ کا شوق دلایا۔ تیسری جز ترغیب کی یہ ہے کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس شے کے چھوڑنے والوں کی خرابی اور بد حالی بیان کی جائے۔ سو اس جز کو اس آیت میں بیان فرمایا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ یعنی ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے صراط مستقیم کو چھوڑا اور دوسری راہیں اختیار کیں اور غضب الہی میں پڑے اور گمراہ ہوئے سو اس آیت میں اس سیدھا راستہ چھوڑنے پر جو ضر ر مترتب ہوتا ہے اس سے آگاہ کیا۔ غرض سورۃ فاتحہ میں ترغیب کی عناد دلی سے خواہ نخواہ قرآن شریف کی توہین کی تھی اور عداوت ذاتی سے جس کا کچھ چارہ نہیں دین متین اسلام پر بے جا اعتراضات اور بیہودہ تعرضات کئے تھے یہ دو فقرے انگریزی میں الہام ہوئے ۔ گوڈ از کمنگ ہائی ہر آرمی ۔ ہی از و د یوٹو کل اینیمی یعنی خدائے تعالیٰ دلائل اور براہین کا لشکر لے کر چلا آتا ہے وہ دشمن کو ۴۸۴ ۴۸۴