براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 544
روحانی خزائن جلد 1 ۵۴۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۵۳ دکھلا رہا تھا اُسی حوض کی مٹی یا پانی سے کچھ مدد نہیں لی اور اُسی میں کچھ ه حاشیه نمبر ا ا تصرف کر کے اپنا نیا نسخہ نہیں نکالا ۔ بلا شبہ ایسا خیال بے دلیل بات ہے کہ جو ۲۵۳ مگر حاجت اعظم جس کا دن رات اور ہر ایک دم فکر کرنا چاہئے صرف ایک ہی ہے یعنی یہ کہ انسان ان طرح طرح کے محجب ظلمانیہ سے نجات پا کر معرفت کامل کے درجہ تک پہنچ جائے اور کسی طرح کی نابینائی اور کور باطنی اور بے مہری اور بے وفائی باقی نہ رہے بلکہ خدا کو کامل طور پر شناخت کر کے اور اس کی خالص محبت سے ظاہر نہیں ہوتا چہ جائیکہ اپنے کمال کو پہنچے اور خالصاً للہ انہیں میں وہ تخم کمال کو پہنچتا ہے کہ جو خدا کے ہو رہتے ہیں اور جن کے نفوس کو خدائے تعالیٰ غیریت کی لوث سے بکلی خالی پا کر خود اپنے پاک اخلاق سے بھر دیتا ہے اور ان کے دلوں میں وہ اخلاق ایسے پیارے کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو آپ پیارے ہیں پس وہ لوگ فانی ہونے کی وجہ سے تخلق باخلاق اللہ کا ایسا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں کہ گویا وہ خدا کا ایک آلہ ہو جاتے ہیں جس کی توسط سے وہ اپنے اخلاق ظاہر کرتا ہے اور ان کو ۴۵۳ بھوکے اور پیاسے پا کر وہ آب زلال ان کو اپنے اس خاص چشمہ سے پلاتا ہے جس میں کسی مخلوق کو علی وجہ الاصالت اس کے ساتھ شرکت نہیں ۔ اور منجملہ ان عطیات کے ایک کمال عظیم جو بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبودیت ہے یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصان ذاتی اپنا پیش نظر رکھتے ہیں اور بشہود کبریائی حضرت باری تعالی ہمیشہ تذلیل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت ذلت اور مفلسی اور ناداری اور پُر تقصیری اور خطاواری سمجھتے ہیں اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرض زوال میں ہوتی ہے۔ پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الہیہ کے کامل شہود سے ان کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلی کھوئے جاتے ہیں اور عظمت الہی کا پُر جوش دریا اُن کے