براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 531 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 531

روحانی خزائن جلد 1 ۵۲۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہو گا کہ حضرت ممدوح اُسی حوض کے پانی میں کچھ تصرف کر کے ایسے ایسے خوارق دکھلاتے ہوں گے کیونکہ اس قسم کے اقتباس کی ہمیشہ دنیا میں بہت سی (۴۴۳ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ پرستش اور استمد اد کے اس سے ایساكَ نَسْتَعِينُ کا خطاب کر رہے ہیں اور شرک خفی میں گرفتار اور مبتلا ہیں اور جب منع کیا جائے تو کہتے ہیں عقل عطیات الہیہ سے ہے اور اسی غرض سے دی گئی ہے کہ تا انسان اپنی معاش اور مہمات میں اس کو استعمال میں لاوے۔ پس عطیہ الہیہ کا استعمال میں لانا شرک نہیں بن سکتا سو واضح ہو کہ یہ ان کی غلطی ہے اور بارہا یہ امر معرض بیان میں آ لیا ہے کہ جس یقین کامل اور جن معارف حقہ پر ہماری نجات موقوف ہے ان مقاصد عالیہ کے حصول کے لئے عقل ۴۴۳ دیتا ہے کہ جو اغیار میں ہرگز پائی نہیں جاتیں اور حضرت احدیت کی طرف سے وہ لذیذ اور دلآرام کلام اس پر نازل ہوتا ہے جس سے اس پر دمبدم کھلتا جاتا ہے کہ وہ فرقان مجید کی سچی متابعت سے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی سے ان مقامات تک پہنچایا گیا ہے کہ جو محبوبان الہی کے لئے خاص ہیں اور ان ربانی خوشنودیوں اور مہر بانیوں سے بہرہ یاب ہو گیا ہے جن سے وہ کامل ایماندار بہرہ یاب تھے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور نہ صرف مقال کے طور پر بلکہ حال کے طور پر بھی ان تمام محبتوں کا ایک صافی چشمہ اپنے پُر صدق دل میں بہتا ہوا دیکھتا ہے اور ایک ایسی کیفیت تعلق باللہ کی اپنے منشرح سینہ میں مشاہدہ کرتا ہے جس کو نہ الفاظ کے ذریعہ سے اور نہ کسی مثال کے پیرا یہ میں بیان کر سکتا ہے اور انوار الہی کو اپنے نفس پر بارش کی طرح برستے ہوئے دیکھتا ہے اور وہ انوار کبھی اخبار غیبیہ کے رنگ میں اور کبھی علوم و معارف کی صورت میں اور کبھی اخلاق فاضلہ کے پیرا یہ میں اس پر اپنا پر توہ ڈالتے رہتے ہیں یہ تاثیرات فرقان مجید کی سلسلہ وار چلی آتی ہیں اور جب سے کہ آفتاب صداقت ذات با برکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آیا اسی دم سے آج تک ہزار ہا نفوس جو استعداد اور قابلیت رکھتے تھے متابعت کلام الہی اور اتباع رسولِ مقبول سے مدارج عالیہ مذکورہ بالا تک پہنچ چکے ہیں اور پہنچتے جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ اس قدر ان پر پے در پے اور علی الاتصال تلطفات و تفضلات وارد کرتا ہے اور ۴۴۳