براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 528
روحانی خزائن جلد 1 ۵۲۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۴۰ حضرت عیسی کی نبوت کا منکر ہے اور اُن کے معجزات کا انکاری ہے جب یوحنا کی ۴۴۰ ۴۴۰ یہ عبارت پڑھے گا اور ایسے حوض کے وجود پر اطلاع پائے گا کہ جو حضرت بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ تجھ سے ہی چاہتے ہیں یعنی خالصاً معبود ہمارا تو ہی ہے اور تیرے تک پہنچنے کے لئے کوئی اور دیوتا ہم اپنا ذریعہ قرار نہیں دیتے نہ کسی انسان کو نہ کسی بت کو نہ اپنی عقل اور علم کو کچھ حقیقت سمجھتے ہیں اور ہر بات میں تیری ذات قادر مطلق سے مدد چاہتے ہیں ۔ آیت اپنے پر زور بیان سے مستعد دلوں پر پورا پورا اثر ڈال رہی ہے اور اندرونی تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے اعلیٰ درجہ کی روشنی دکھلا رہی ہے اسی جگہ سے دانا انسان سمجھ سکتا ہے کہ کس کتاب میں بلاغت اور خوش بیانی اور زور تقریر پایا جاتا ہے اور کون سی کتاب کلام بلیغ اور فصیح سے محروم ہے۔ نیک دل اور منصف انسان جب بہ نیت مقابله و موازنہ وید اور قرآن شریف کی عبارت پر نظر ڈالے گا۔ تو اسے فی الفور یہ دکھائی دے گا کہ وید اپنی عبارت میں ایسا کچا اور نا تمام ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی نسبت انواع اقسام کی بد گمانیوں میں ڈالتا ہے اور کسی جگہ اپنے دعوئی کو طاقت بیانی سے واضح کر کے نہیں دکھلاتا اور نہ پایہ ثبوت تک پہنچاتا ہے بلکہ یہ خود معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کا دعویٰ کیا ہے اور اگر کچھ معلوم بھی ہوتا ہے تو بس یہی کہ وہ اگنی اور سورج اور اندر وغیرہ کی پرستش کرانا چاہتا ہے اور اس پر بھی کوئی حجت اور دلیل پیش نہیں کرتا کہ کب سے اور کیونکر ان چیزوں کو خدائی کا مرتبہ حاصل ہو گیا ۔ اور پھر باوجود اس مہمل بیانی کے چاروں وید اس قدر لمبی اور طول طویل عبارت میں لکھے گئے ہیں جن کا مطالعہ شاید کوئی بڑا محنتی آدمی بشرطیکہ اس کی عمر بھی دراز ہو کر سکے۔ اور بمقابلہ اس کے جب منصف آدمی قرآن شریف کو دیکھے تو فی الفور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن شریف میں ایجاز کلام اور قَلَّ وَ دَلَّ بیان میں جو لازمہ ضرور یہ بلاغت ہے وہ کمال دکھلایا ہے کہ وہ با وجود احاطہ جميع ضروریات دین اور استیفا تمام دلائل و براہین کے اس قدر حجم میں قلیل المقدار ہے کہ انسان