براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 511
روحانی خزائن جلد 1 ۵۰۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبر ا ا کو بیکار چھوڑ دے تو وہ بھی گھٹتے گھٹتے کالعدم ہو جائے گی ۔ سو یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے بندوں کو اس طریقہ پر چلانا چاہا جس پر ان کی ۴۲۶ قوت نظریہ کا کمال موقوف ہے ۔ اور اگر خدائے تعالیٰ محنت کرنے سے وسیع عالم میں ظہور پذیر ہو جائے اور تا ان تجلیاتِ تامہ اور کاملہ سے انسان اُس اعلیٰ درجہ کے شہود تام تک بھی پہنچ جائے کہ جو اس کی بشری طاقتوں کے لئے حد امکان میں داخل ہے اور چونکہ اعلیٰ درجہ کی مکافات عند العقل اسی میں منحصر ہے کہ جو امر بطور جزا وارد ہے وہ انسان کے ظاہر و باطن و جسم و جان پر تمام و کمال دائمی و لازمی طور پر محیط ۴۲۶ اور کبھی اس مقدس کتاب کا درشن نہیں کیا وہ دل میں یہ وسوسہ کریں کہ یہ شرتیاں جور گوید میں سے لکھی گئی ہیں وہ صحیح طور پر نہیں لکھی گئیں یا شاید ان سے بہتر وید مذکور میں اور شرتیاں ہوں گی جن میں وید نے وحدانیت الہی کے بیان کرنے میں داد فصاحت دی ہوگی یا مخلوق پرستی کو فصیح اور مدل تقریر میں جو لازمہ فصاحت و بلاغت ہے عطا کیا ہو گا سوایسے وسواسی آدمیوں کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ ہم نے یہ تمام شرتیاں رگوید سنتھا استک اول سکت سے ۱۵ اسکت تک بطور نمونہ منتخب کر کے لکھی ہیں ۔ اگر (۴۲۶ کسی کو یہ دعوی ہو کہ وہ شرتیاں صحیح نہیں ہیں تو اس پر لازم ہے کہ جو اس کی دانست میں صحیح ترجمہ ہو وہ پیش کرے تا منصف لوگ آپ دیکھ لیں کہ یہ شرتیاں صحیح ہیں یا اُس کی پیش کردہ صحیح ہیں۔ اور اگر کسی کو یہ دعوی ہو کہ اگر چہ یہ شرتیاں مہمل اور بے سروپا ہیں۔ مگر اسی رگوید میں ایسی شرتیاں بھی پائی جاتی ہیں جن میں وحدانیت ال رانیت الہی کا بیان نہایت صفائی اور شائستگی سے موجود ہے تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ ہمراہ ان شرتیوں کے ان شرتیوں کو بھی پیش کرے تا کہ اگر کسی طرح ہاتھ پاؤں مار کر دید کی بلاغت و خوش بیانی ثابت ہو سکے تو ثابت ہو جائے ہم کو کسی صاحب سے ناحق کی ضد نہیں ہے ۔ ہم اپنے سچے دل سے کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی غور اور تدبر سے وید پر نظر کر کے اس کو طریقہ شائستہ بیانی سے بالکل دور اور مہجور پایا ہے۔ اور ہم بڑے افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایسی پراگندہ باتیں کیونکر بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳