براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 456
روحانی خزائن جلد 1 لد لد براہین احمدیہ حصہ چہارم کرے ۔ تو بہ یقین کامل اس کو معلوم ہوگا کہ ایک ہی بولی ان سب کے مناسب حال ۳۸۰ نہیں تھی ۔ بعض ملکوں کے لوگ بعض طور کے حروف اور الفاظ کے بولنے پر بہ آسانی قادر ہیں ۔ اور بعض ملکوں کے لوگوں کو ان حروف اور الفاظ کا بولنا ایک مصیبت ہے بق قيه حاشیه اقتدار کامل اور خالص کا مظہر ہے۔ ہاں اس فیضان اخص سے ان کامل انسانوں کو اسی زندگی میں کچھ حظ پہنچتا ہے کہ جو سچائی کی راہ پر کامل طور پر قدم مارتے ہیں اور اپنے نفس کے ارادوں اور خواہشوں سے الگ ہو کر بکلی خدا کی طرف جھک جاتے ہیں کیونکہ وہ مرنے سے پہلے مرتے ہیں اور اگرچہ بظاہر صورت اس عالم میں ہیں لیکن در حقیقت وہ دوسرے عالم میں سکونت رکھتے ہیں۔ پس چونکہ وہ اپنے دل کو اس دنیا کے اسباب سے منقطع کر لیتے ہیں اور عادات بشریت کو ۳۸۰ توڑ کر اور بیکبارگی غیر اللہ سے مونہ پھیر کر وہ طریق جو خارق عادت ہے اختیار کر لیتے ہیں اس لئے خداوند کریم بھی ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور بطور خارق عادت ان پر اپنے وہ انوار خاصہ ظاہر کرتا ہے کہ جو دوسروں پر بجز موت کے ظاہر نہیں ہو سکتے ۔ غرض بباعث امور متذکرہ بالا وہ اس عالم میں بھی فیضان اخص کے نور سے کچھ حصہ پالیتے ہیں اور یہ فیضان ہر یک فیض سے خاص تر اور خاتمہ تمام فیضانوں کا ہے ۔ اور اس کو پانے والا سعادت عظمی کو پہنچ جاتا ہے اور خوشحالی دائمی کو پالیتا ہے جو تمام خوشیوں کا سرچشمہ ہے ۔ اور جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہمیشہ کے دوزخ میں پڑا۔ اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنا نام مالک یوم الدین بیان فرمایا ہے ۔ دین کے لفظ پر الف لام لانے سے یہ غرض ہے کہ تا یہ معنے ظاہر ہوں کہ جزا سے مراد وہ کامل جزا ہے جس کی تفصیل فرقان مجید میں مندرج ہے۔ اور وہ کامل جزا بجز تجلی مالکیت تامہ کے کہ جو ہدم بنیان اسباب کو مستلزم ہے ۳۸۰ بقيه حاشیه در حاشیه نـ علاج لکھا ہے۔ مذاہب باطلہ کے ہریک وہم کو مٹایا ہے۔ ہر یک اعتراض کا جواب دیا ہے۔ کوئی صداقت نہیں جس کو بیان نہیں کیا ۔ کوئی فرقہ ضالہ نہیں جس کا رد نہیں لکھا۔ اور پھر کمال یہ کہ کوئی کلمہ نہیں کہ بلا ضرورت لکھا ہو۔ اور کوئی بات نہیں کہ بے موقع بیان کی ہو ۔