براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 451
روحانی خزائن جلد 1 ۴۴۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور پرمیشر کے مونہہ سے دور رہی ہوتی ہیں ۔ تو ذرا ابتلاؤ تو سہی کہ وہ کون سے کمالات خاصہ ہیں، جو سنسکرت میں پائے جاتے ہیں ۔ اور دوسری زبانیں ان سے عاری ہیں ۔ ۳۷۶ بقیه حاشیه نمبر ا ا حاشیه در حاشیه نمبر ۳ مستعد ہو۔ وہ شکر کرے ۔ رحمان کے حقیقی پرستا ر وہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بردباری سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے سخت کلامی سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں یعنی بجائے سختی کے نرمی اور بجا۔ بجائے گالی کے دعا دیتے ہیں ۔ اور تشبه باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمان بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ پس ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمان کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر ایک بڑے بھلے پر محیط ہو رہی ہے۔ جیسا ایک جگہ اور بھی اسی رحمت عام کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ عَذَابِي أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُل شَیء کے یعنی میں اپنا عذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچاتا پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر یک چیز کو گھیر رکھا ہے۔ اور پھر ایک اور موقعہ پر فرمایا قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ کے یعنی ان کافروں اور نافرمانوں کو کہہ کہ اگر خدا میں صفت رحمانیت کی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے یعنی اسی کی رحمانیت کا اثر ہے کہ وہ کافروں اور بے ایمانوں کو مہلت دیتا ہے اور جلد تر نہیں پکڑتا ۔ پھر ایک اور جگہ اسی رحمانیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَفْتٍ وَيَقْبِضُنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ ﴿٣٦﴾ إِلَّا الرَّحْمَنُ - الجزو نمبر ۲۹ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے ہوئے نہیں دیکھا کہ کبھی وہ بازو کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں رحمن ہی ہے کہ مشکل ہو ۔ اسی وجہ سے بہت سے منشیوں نے اپنی عربی اور فارسی - کے املاء میں اس قسم کی بے نقطہ عبارتیں لکھی ہیں اور اب بھی لکھتے ہیں ۔ بلکہ بعض منشیوں کی ایسی عبارتیں بھی ۳۷۶ موجود ہیں جن کے تمام حروف نقطہ دار ہیں اور کوئی بے نقط حرف ان میں داخل نہیں لیکن ل الاعراف: ۱۵۷ ۲ الانبياء : ۴۳ ۳ الملک : ۲۰