براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 406
روحانی خزائن جلد 1 ۴۰۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۳۹ سے ایک بولی کا من کل الوجوہ پیدا ہو جانا یہ اور بات ہے ۔ ماسوا ان سب باتوں ۳۴۰ ۳۴۰ کے جبکہ اب بھی خدائے تعالیٰ بذریعہ اپنے الہام کے مختلف بولیوں کو اپنے بقیه حاشیه نمبر حاشیه در حاشیه نمبر ۳ بار با ذکر کیا گیا ہے اس کی عبارت میں ایسی رنگینی اور آب و تاب اور نزاکت و لطافت و ملایمیت اور بلاغت اور شیرینی اور روانگی اور حسن بیان اور حسن ترتیب پایا جاتا ہے کہ ان معانی کو اس سے بہتر یا اس سے مساوی کسی دوسری فصیح عبارت میں ادا کر نا ممکن نہیں اور اگر تمام دنیا کے انشا پرداز اور شاعر متفق ہو کر یہ چاہیں کہ اس مضمون کو لیکر اپنے طور سے کسی دوسری فصیح عبارت میں لکھیں کہ جو سورۃ فاتحہ کی عبارت سے مساوی یا اس سے بہتر ہو تو یہ بات بالکل محال اور ممتنع ہے کہ ایسی عبارت لکھ سکیں ۔ کیونکہ تیرہ سو برس سے قرآن شریف تمام دنیا کے سامنے اپنی بے نظیری کا دعوئی پیش کر رہا ہے۔ اگر ممکن ہوتا تو البتہ کوئی مخالف اس کا معارضہ کر کے دکھلاتا۔ حالانکہ ایسے دعوی کے معارضہ نہ کرنے میں تمام مخالفین کی رسوائی اور ذلت اور قرآن شریف کی شوکت اور عزت ثابت ہوتی ہے۔ پس چونکہ تیرہ سو برس سے اب تک کسی مخالف نے عبارت قرآنی کی مثل پیش نہیں کی تو اس قدر زمانہ دراز تک تمام مخالفین کا مثل پیش کرنے سے عاجز رہنا اور اپنی نسبت ان تمام رسوائیوں اور ندامتوں اور لعنتوں کو روا رکھنا کہ جو جھوٹوں اور لاجواب رہنے والوں کی طرف عائد ہوتے ہیں صریح اس بات پر دلیل ہے کہ فی الحقیقت ان کی علمی طاقت مقابلہ سے عاجز رہی ۔ ہے اور اگر کوئی اس امر کو تسلیم نہ کرے تو یہ بار ثبوت اسی کی گردن پر ہے کہ وہ آپ یا کسی اپنے مددگار سے عبارت قرآن کی مثل بنوا کر پیش کرے۔ مثلاً سورۃ فاتحہ کے مضمون کو لیکر کوئی دوسری فصیح عبارت بنا کر دکھلا دے جو کمال بلاغت اور فصاحت میں اس کے برابر ہو سکے اور جب تک ایسا نہ کرے۔ تب تک وہ ثبوت کہ جو مخالفین کے تیرہ سو برس خاموش اور لاجواب رہنے سے اہل حق تفرقہ پیدا نہ ہوا اور بعض ہندو اپنے مونہہ پر تھیلی چڑھا کر رکھتے ہیں اور پانی پن کر پیتے ہیں تا کوئی جیو ان کے مونہہ کے اندر نہ چلا جائے اور اس طرح پر وہ کسی جیو گھات کے موجب نہ ٹھہریں ۔ اب دیکھئے اس کمال کا رحم اور عفو انجیل میں کہاں ہے۔ لیکن باوجود اس کے