براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 404

براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۰۲ روحانی خزائن جلد 1 یہ دنیا پیدا ہو سکتی۔ علاوہ اس کے جو تغیرات بولیوں میں طبعی طور پر ہوتے رہتے بقیه حاشیه نمبرا قیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ذرا فرو گذاشت نہ کرتی ہو اور مناظرہ اور مباحثہ کے تمام پہلوؤں کی کما حقہ رعایت رکھتی ہو اور تمام ضروری دلائل اور ضروری براہین اور ضروری تعلیم اور ضروری سوال اور ضروری جواب پر مشتمل ہو کیونکر با وجود ان مشکلات پیچ در پیچ کے کہ جو پہلی صورت سے صد ہا درجہ زیادہ ہیں ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ کسی بشر کی تحریر میں جمع ہو سکتی ہے کہ وہ بلاغت بھی بے مثل و مانند ہو اور اس مضمون کو اُس سے زیادہ فصیح عبارت میں بیان کرنا ممکن نہ ہو۔ یہ تو وہ وجوہ ہیں کہ جو سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایسے طور سے پائی جاتی ہیں جن کو گلاب کے پھول کی وجوہ بے نظیری سے بکلی مطابقت ہے ۔ لیکن سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں ایک اور خاصہ بزرگ پایا جاتا ہے کہ جو اسی کلام پاک سے خاص ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو توجہ اور اخلاص سے پڑھنا دل کو صاف کرتا ہے اور ظلمانی پردوں کو اٹھاتا ہے اور سینے کو منشرح کرتا ہے اور طالب حق کو حضرت احدیت کی طرف کھینچ کر ایسے انوار اور آثار کا مورد کرتا ہے کہ جو مقربان حضرت احدیت میں ہونی چاہئے اور جن کو انسان کسی دوسرے حیلہ یا تدبیر سے ہرگز حاصل نہیں کر سکتا ۔ اور اس روحانی تاثیر کا ثبوت بھی ہم اس کتاب میں دے چکے ہیں اور اگر کوئی طالب حق ہو تو بالمواجہ ہم اس کی تسلی کر سکتے ہیں اور ہر وقت تازہ بتازہ ثبوت دینے کو طیار ہیں ۔ اور نیز اس بات کو بخوبی یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف کا اپنی کلام میں بے مثل و مانند ہونا صرف عقلی دلائل میں محصور نہیں بلکہ زمانہ دراز کا تجربہ صحیحہ بھی اس کا موید اور مصدق ہے ۔ کیونکہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف اسی اشلوک کے رو سے ہندو لوگ کسی جاندار کو آزار دینا پسند نہیں کرتے ۔ یہاں تک کہ سانپوں کے شر کا بھی مقابلہ نہیں کرتے بلکہ بجائے ان کے شر کے ان کو دودھ پلاتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں ۔ اس پوجا کا نام ان کے مذہب میں ۳۳۸ ۳۳۹