براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 358

۳۰۶ روحانی خزائن جلد 1 ۳۵۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم جیسا کہ خود انسان کے افراد متفاوت الاستعداد پر نظر کرنے سے یہ فرق ظاہر اور بقیه حاشیه نمبر بقيه حاش لکھتے ہیں کہ ہوش سنبھالیں اور عقل کا دعویٰ کرتے کرتے بے عقل نہ بن جائیں وہ انسان بڑا نالائق اور دون ہمت کہلاتا ہے جس کی زبان پاکوں اور مقدسوں کی تحقیر میں تو بڑی لمبی ہو لیکن کلمہ حق بولنے کے وقت میں گونگی ہو جائے اگر یہ لوگ کسی ایسی بات کے سمجھنے سے رک جاتے کہ جو حقیقت میں ایک بار یک دقیقہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ان کا کچھ قصور نہیں بات باریک تھی اس لئے سمجھ آنے سے رہ گئی مگر اس تعصب کو دیکھو کہ وہ باتیں کہ جو ادنی استعداد کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے انہیں کے قبول کرنے سے ان کو انکار ہے۔ بھلا الہام ہی کے بحث میں کوئی منصف آدمی خیال کرے کہ کیا اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل ہے کہ خدا جو تمام صفات کا ملہ سے متصف ہے گونگا نہیں ہو سکتا بلکہ ضرور لازم ہے کہ جیسے دیکھتا ہے سنتا ہے جانتا ہے ایسا ہی بولتا بھی ہو اور جب بولنے کی صفت پائی گئی تو اس صفت کا فیض بھی افراد لائقہ نوع انسان پر ہونا چاہئے کیونکہ خدا کی کوئی صفت فیض رسانی سے خالی نہیں اور وہ جمیع صفاتہ مبدء فیوض ہے نہ یہ بعض صفاتہ اور تمام صفتوں کے رو سے انسان کے لئے رحمت ہے نہ بعض صفتوں کے رو سے کیا اس بات کا سمجھنا کچھ بیچ دار ہے کہ انسان جو انواع اقسام کے جذبات نفسانی میں گرفتار ہے اور ہر یک لحظہ حرص اور ہوا کی طرف جھکا جاتا ہے وہ آپ ہی قانون شریعت کا واضع اور بنانے والا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ پاک قانون اسی کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے کہ جو اپنی ذات میں ہر یک جذ بہ نفسانی اور سہو و خطا سے پاک ہے۔ کیا اس امر میں کچھ شک بھی ہے کہ مجرد عقل خدا شناسی کے بارہ میں مرتبہ ہے تک ہرگز نہیں پہونچا سکتی کیا انسانوں کے دلوں میں طبعی طور پر اس خواہش کا احساس پایا نہیں جاتا کہ وہ خدا کی دریافت کے بارے میں ظنون عقلیہ سے آگے قدم بڑھاویں اپنا جلوہ دکھاتی ہیں اور بغیر ان کے ہرگز یہ باتیں حاصل نہیں ہوتیں پس یہی باتیں ان کی شناخت کی علامات خاصہ ہیں۔ فتدبر و لا تغفل۔