براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 355

روحانی خزائن جلد 1 ۳۵۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم سے ہرگز برابر نہیں ہو سکتیں اور جو علمی طاقتوں میں ادنی اور اعلیٰ اور قوی اور ۳۰۴ بقیه حاشیه نمبراا بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ ثابت ہو گیا کہ الہام نہ غیر ممکن ہے اور نہ غیر موجود بلکہ ایک بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو عند العقل واجب اور ضروری اور عند التفتيش متحقق الوجود ہے جس کا موجود ہونا ہم نے ثابت کر دکھایا ہے پس الے حضرات اب آپ لوگوں پر لازم ہے کہ اس حاشیہ کو اور نیز حاشیہ در حاشیہ نمبر ایک اور نمبر ۲ اور نمبر ۳ کو بغور تمام پڑھیں اور بار بار پڑھیں اور پھر بمقتضائے خدا ترسی راستے کے روشن چراغ کو پا کر نا راستی کے تاریک خیالات کو چھوڑ دیں اور اس متعصبانہ شرم کو دل میں جگہ نہ دیں کہ اپنا ہی سیا ہوا کیونکر ۳۰۴ ادھیڑیں بلکہ لازم ہے کہ جو شخص اپنے تئیں منصف سمجھتا ہے اب وہ اپنا انصاف دکھاوے اور جو اپنے تیں حق کا طالب جانتا ہے اب وہ حق کے قبول کرنے میں توقف نہ کرے ہاں نفسانی آدمی کو ایسی صداقت کا قبول کرنا جس کے ماننے سے اس کی شیخی میں فرق آتا ہے ایک مشکل امر ہوگا مگر اے ایسی طبیعت کے آدمی !! تو بھی اس قادر مطلق سے خوف کر جس سے آخر کار تیرا معاملہ ہے اور دل میں خوب سوچ لے کہ جو شخص حق کو پا کر پھر بھی طریقہ ناحق کو نہیں چھوڑتا اور مخالفت پر ضد کرتا ہے اور نہیں ہے بلکہ وہ اس غرض سے ہے کہ تا وہ ان برکتوں کو جوان پر اور ان کے متعلقین پر وارد ہونے کو ہیں قبل از وقوع بیان کر کے توجہ خاص حضرت احدیث پر یقین دلائیں اور نیز وہ مخاطبات اور ۳۰۴ مکالمات جو حضرت احدیت کی طرف سے ان کو ہوتے ہیں ان کی صحت اور منجانب اللہ ہونے پر ایک قطعی اور یقینی حجت پیش کریں۔ اور ایسے انسان جن کو یہ سب برکات قدسیہ بکثرت عطا ہوتی ہیں ان کی نسبت خدا کی قدرت اور حکمت قدیمہ کے قانون میں یہی قرار پایا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سچے اور پاک عقائد ہوں اور جو سچے مذہب پر ثابت اور مستقیم ہوں اور حضرت احدیت سے غایت درجہ کا اتصال اور دنیا و مافیہا سے غایت درجہ کا انقطاع رکھتے ہوں ایسے لوگ کبریت احمر کا حکم رکھتے ہیں اور ان کی فطرت کو ربانی انوار اور حقانی مذہب لازم ہے اور ان کی ذات ستودہ صفات کو کہ جو جامع البرکات ہے بد بخت نجومیوں اور جوتشیوں