براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 330

روحانی خزائن جلد 1 ۳۲۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۲۸۴ لاکر غور کرنی چاہئے جنہوں نے کلام الہی کی بے نظیری کی عدم تسلیم میں صرف یہ بقیه حاشیه نمبر براا کرتی ہے وہ مجرد عقل سے ہرگز متوقع نہیں اور اس کا ثبوت روزمرہ تجربہ سے ظاہر ہے۔ مثلاً ایک شخص ایک دور دراز ولایت کا سیر کر کے آتا ہے۔ تو جب اپنے وطن میں پہنچتا ہے تو ہر یک خویش و بیگا نہ اس ولایت کی خبریں اس سے دریافت کرتا ہے اور اس کی چشم دید خبریں بشرطیکہ وہ درونگوئی کی عادت سے متہم نہ ہو۔ دلوں پر بہت اثر کرتی ہیں اور بغیر کسی تر داور شک کے فی الواقعہ راست اور صحیح سمجھی جاتی ہیں بالخصوص جب ایسا مخبر ہو کہ لوگوں کی نظر میں ایک بزرگوار اور صالح آدمی ہو ۔ اس قدر تا ثیر اس کی کلام میں کیوں ہوتی ہے۔ اس لئے ہوتی ہے کہ اوّل اس کو ایک شریف اور راست باز تسلیم کر کے پھر اس کی نسبت یہ یقین کیا گیا ہے کہ وہ جو جوان ملکوں کے واقعات بیان کرتا ہے۔ ان کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور جو جو خبریں بتلاتا ہے وہ سب اس کا چشم دید ماجرا ہے۔ پس اسی باعث سے اس کی باتوں کا دلوں پر سخت اثر واقعہ ہوتا ہے اور اس کے بیانات طبیعتوں میں ایسے جم جاتے ہیں کہ گویا ان واقعات کی تصویر نظر کے سامنے آموجود ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات جب وہ اپنے سفر کی ایک رقت آمیز حکایت سناتا ہے یا کسی قوم کا درد انگیز قصہ بیان کرتا ہے تو سنتے ہی وہ بات سامعین کے دل کو ایسا پکڑ لیتی ہے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اور ان کی ایک ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ گویا وہ موقعہ پر موجود ہیں اور اس واقعہ کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن جو شخص اپنے گھر کی چار دیوار سے کبھی باہر نہیں نکلا نہ اس ملک میں کبھی گیا اور نہ دیکھنے والوں سے کبھی اس کا حال سنا اگر وہ اٹھ کر صرف اپنی اٹکل سے اس ملک کی خبریں بیان کرنے لگے تو اس کی بک بک سے خاک بھی تاثیر نہیں ہوتی بلکہ لوگ اسے کہتے ہیں کہ کیا تو پاگل اور دیوانہ ہے کہ ایسی باتیں بیان کرنے لگا کہ جو تیرے معائنہ اور تجربہ سے باہر ہیں اور تیرے ناقص علم سے بلند تر ہیں اور ۲۸۴ اس پر ایسا ہی کہتے ہیں کہ جیسا ایک بزرگ نے کسی احمق کا قصہ لکھا ہے کہ وہ ایک جگہ گیہوں کی روٹی کی بہت سی تعریفیں کر رہا تھا کہ وہ بہت ہی مزہ دار ہوتی ہے۔ اور جب پوچھا گیا کہ کیا تو نے بھی کبھی کھائی ۲۸۴ یہود نصاری یا مجوس سے بطور سرقہ اخذ کئے گئے ہیں تو پھر کیوں آپ ایسے کام کے دکھانے سے جس کے کرنے سے تمام عیسائیوں کی عزت بحال رہے اور ان کا قدیمی داغ عاجز اور لاجواب