براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 216
روحانی خزائن جلد 1 ۲۱۴ براہین احمدیہ حصہ سوم بلکہ صاحب عقل اور بصیرت کے لئے علاوہ دلائل متذکرہ بالا کے کئی ایک اور وجوہ ۱۹۷ بھی ہیں جن سے خدا کے کلام کا عدیم المثال ہونا اور بھی زیادہ اس پر واضح ۱۹۷ بقیه حاش وہی ہے جس نے اپنا کارنمایاں اور نہایت عمدہ اور دیر پا نتائج دکھلا کر اپنی بے نظیر تاثیر کی دو بدو شہادت سے بڑے بڑے معاندوں سے اپنی لاثانی اسے اپنی لا ثانی فضیلتوں کا اقرار کرایا۔ یہاں تک کہ سخت بے ایمانوں اور سرکشوں کے دلوں پر بھی اس کا اس قد را اثر پڑا کہ جس کو انہوں نے قرآن شریف کی عظمت شان کا ایک ثبوت سمجھا اور بے ایمانی پر اصرار کرتے کرتے آخر اس قدر نہیں بھی کہنا پڑا کہ إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِين لے جزو نمبر ۴۶ ہاں وہی ہے جس کی زبر دست کششوں نے ہزار ہا درجہ عادت سے بڑھ کر ایسا خدا کی طرف خیا خیال دلایا کہ لاکھوں خدا کے بندوں نے خدا کی وحدانیت پر اپنے خون سے مہریں لگا دیں ۔ ایسا ہی ہمیشہ سے بانی کار اور ہادی اس کام کا الہام ہی چلا آیا ہے جس سے انسانی عقل نے نشو و نما پایا۔ ورنہ بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں کے لئے بھی یہ بات سخت محال رہی ہے کہ ان کو امور ماوراء المحسوسات کی ہر جزئی کے دریافت کرنے میں ایسا موقعہ ہمیشہ مل جائے کہ یہ بات معلوم کر سکیں کہ کس کس وضع اور خصوصیت سے وہ جزئیات موجود ہیں اور جن کو طاقت بشری تک عقل حاصل ہی نہیں یا جہد اور کوشش کرنے کے سامان میسر نہیں آئے وہ تو انکی نسبت بھی زیادہ لاعلم اور بے خبر ہیں ۔ پس اس بارہ میں جو جو سہولتیں خدا کے سچے اور کامل الہام نے کہ جو قرآن شریف ہے عقل کو عطا کی ہیں اور جن جن سرگردانیوں سے فکر اور نظر کو بچایا ہے وہ ایک ایسا امر ہے کہ جس کا ہر یک عاقل کو شکر کرنا لازم ہے ۔ سو کیا اس اعتبار سے کہ ابتدا امر خدا شناسی کی الہام ہی کے ذریعہ سے ہوئی ہے اور کیا اس وجہ سے کہ معرفت الہی کا ہمیشہ از سرنو زندہ ہونا الہام ہی کے ہاتھ سے ہوتا آیا ہے اور کیا اس خیال سے کہ مشکلات راہ سے رہا سے رہائی پانا الہام ہی کی امداد پر منحصر ہے ہر عاقل کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ راہ جو نہایت صاف اور سیدھی اور ہمیشہ سے کھلی ہوئی اور مقصود تک پہنچاتی ہوئی چلی آئی ہے وہ وحی ربانی ہے ۔ اور یہ سمجھنا کہ وہ کھلا ہوا ل الصافات : ١٦ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے جزو نمبر ۲۳ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)