براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 156

روحانی خزائن جلد ۱ اولد براہین احمدیہ حصہ سوم بقیه حاشیه نمبـ نمبر ۱۵۰ ہے جو ان سب چیزوں پر جو صادر من اللہ ہیں نظر تدبر کر کے یہ پایہ صحت پہنچ گیا ہے۔ کیونکہ تمام جزئیات عالم جو خدا کی قدرت کاملہ سے ظہور پذیر ہیں جب ہم ہر یک کو کیونکہ کمزور خیال زبر دست خیال پر غالب نہیں آ سکتا اور بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ جب ایسا آدمی جس کا یقین به نسبت امور آخرت کے دنیا پر زیادہ ہے اس مسافر خانہ سے کوچ کرنے لگے اور وہ نازک وقت جس کو جان کندن کہتے ہیں یکا یک اس کے سر پر نمودار ہو کر اس کو ان یقینی لذات سے دور ڈالنا چاہے جو دنیا میں اس کو حاصل ہیں اور اُس کو اُن پیاروں سے علیحدہ کرنا چاہے جن کو وہ یقیناً بچشم خود ہر روز دیکھتا ہے۔ اور ان مالوں اور ملکوں اور دولتوں سے اس کو جدا کرنے لگے جن کو وہ بلا شبہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے تو ایسی حالت میں ممکن نہیں کہ اس کا خیال خدائے تعالیٰ کی طرف قائم رہے ۔ مگر صرف اسی صورت میں کہ جب اس یقین کامل کے مقابل پر خدائے تعالیٰ کے وجود اور اس کی لذت وصال اور اس کے وعدہ جزا سزا پر بھی ایسا ہی یقین کامل بلکہ اس سے زیادہ ہو۔ اور اگر اس آخری وقت میں اس درجہ کا یقین جو خیالات دنیوی کی مدافعت کر سکے اس کو حاصل نہ ہو تو یہ امر غالبا اس کے لئے بد خاتمہ کا موجب ہوگا۔ ۱۵۰ اور یہ بات کہ صرف ملاحظہ مخلوقات سے یقین کامل حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اس طرح پر ثابت ہے کہ مخلوقات کوئی ایسا صحیفہ نہیں ہے کہ جس پر نظر ڈال کر انسان یہ لکھا ہوا پڑھ لے کہ ہاں اس مخلوق کو خدا نے پیدا کیا ہے اور واقعی خدا موجود ہے اور اسی کی لذت وصال راحت حقیقی ہے۔ اور وہی مطیعوں کو جزا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔ بلکہ مخلوقات کو دیکھ کر اور اس عالم کو ایک ترتیب احسن اور ابلغ پر مرتب پا کر فقط قیاسی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مخلوقات کا کوئی خالق ہونا چاہیے۔ اور لفظ ہونا چاہیے اور ہے کے مصداق میں بڑا فرق ہے۔ مفہوم ہونا چاہیے اس یقین جازم تک نہیں پہنچا سکتا جس تک مفہوم ہے کا پہنچاتا ہے بلکہ اس میں کسی قدر رگ شک باقی رہ جاتی ہے اور جو شخص کسی امر کی نسبت ما نسبت بطور قیاسی ہونا چاہیے کہتا ۔ چاہیے کہتا ہے اس کے قول کا صرف اس قدر خلاصہ ہے کہ میرے قیاس میں تو ہونا لازم ہے اور آگے مجھے خبر نہیں کہ واقعہ میں ہے بھی یا