براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 149
روحانی خزائن جلد 1 ۱۴۷ براہین احمدیہ حصہ سوم نسبت یہ واقعہ ثابت ہے کہ باعث ناخواندہ ہونے کے کسی کتاب کو پڑھ نہیں سکتا ہے سو اگر بکر ان کتابوں میں سے کچھ امور یا مسائل یا واقعات بیان کرے تو وہ امور غیبیہ نہیں ہیں ۱۴۳ کیونکہ بکر بذریعہ تعلیم کامل اور عرصہ دراز کی مشق کے ان کتابوں کے مضامین پر بخوبی مطلع اور حاوی ہے۔ لیکن اگر زید جو محض اُمی ہے ان حقائق عمیقہ کو بیان کر دے جن کا جاننا بجز واقفیت تام کے محال عادی ہے اور ان کتابوں کی ایسی بار یک صداقتوں کو کھول دے جو بجز خواص علماء کے کسی پر منکشف نہیں ہوتیں اور ان کے وہ تمام معائب اور نقصانات ظاہر کر دے جن کا ظاہر کرنا بجز نہایت درجہ کی دقت نظر کے عادنا ممتنع ہے۔ اور پھر اس منصب تدقیق اور تحقیق میں ایسا کامل ہو جو اپنی نظیر نہ رکھتا ہو۔ تو اس صورت میں اس کی نسبت یہ کہنا حق اور راست ہوگا کہ اس نے امور غیبیہ کو بیان کیا۔ تشریح شاید کوئی معترض اس تمہید پر یہ اعتراض کرے کہ ان سہل اور آسان منقولات کا بیان کرنا جو مذہبی کتابوں میں مدون اور مرقوم ہیں۔ بذریعہ سماعت بھی ممکن ہے جس میں لکھا پڑھا ہونا کچھ ضروری نہیں کیونکہ نا خواندہ آدمی کسی واقعہ کو کسی خواندہ آدمی سے سن کر بیان کر سکتا ہے۔ یہ کچھ مسائل دقیقہ علمیہ نہیں ہیں جن کا جانا بغیر تعلم با قاعدہ کے محال ہو۔ ایسے معترض سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تمہاری کتابوں میں کوئی ایسی بار یک صداقتیں بھی ہیں یا نہیں جن کو بجز اعلیٰ درجہ کے عالم اور اجل فاضل کے ہر یک شخص کا کام نہیں کہ دریافت کر سکے بلکہ انہیں لوگوں کے ذہن ان کی طرف سبقت کرنے والے ہیں جنہوں نے زمانہ دراز تک ان کتابوں کے مطالعہ میں خون جگر کھایا ۔ جگر کھایا ہے اور مکاتب علمیہ میں کامل ا میں کامل استادوں سے پڑھا۔ پڑھا سیکھا ہے پس اگر اس سوال کا یہ جواب دیں کہ ایسی اعلیٰ درجے کی دقیق صداقتیں ہماری کتابوں میں موجود نہیں ہیں بلکہ ان میں تمام موٹی اور سرسری اور بے مغز با تیں بھری ہوئی ہیں جن کو عوام الناس بھی ادنی التفات ۱۴۴