براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 136
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۳۴ براہین احمدیہ حصہ سوم يا الله * مسلمانوں کی حالت اور اسلام کی غربت اور نیز بعض ضروری امور سے اطلاع آج کل غربت اسلام کی علامتیں اور دین متین محمدی پر مصیبتیں ایسی ظاہر ہو رہی ہیں کہ جہاں تک زمانہ بعثت حضرت نبوی کے بعد میں ہم دیکھتے ہیں کسی قرن میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ اس سے زیادہ تر اور کیا مصیبت ہوگی کہ مسلمان لوگ دینی غمخواری میں بغایت درجہ سست اور مخالف لوگ اپنے اعتقادوں کی ترویج اور اشاعت میں چاروں طرف سے کمر بستہ اور چست نظر آتے ہیں۔ جس سے دن بدن ارتداد اور بد عقیدگی کا دروازہ کھلتا جاتا ہے۔ اور لوگ فوج در فوج مرتد ہو کر نا پاک عقا ئد اختیار کرتے جاتے ہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے مخالف جن کے عقائد فاسدہ بدیہی البطلان ہیں۔ دن رات اپنے اپنے دین کی حمایت میں سرگرم ہیں بعد یکہ یورپ اور امریکہ میں عیسائی دین کے پھیلانے کے لئے بیوہ عورتیں بھی چندہ دیتی ہیں۔ اور اکثر لوگ مرتے وقت وصیت کر جاتے ہیں کہ اس قدر تر کہ ہمارا خالص مسیحی مذہب کے رواج دینے میں خرچ ہو۔ مگر مسلمانوں کا حال کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ ان کی غفلت اس حد تک پہنچ گئی ہے۔ کہ نہ وہ آپ دین کی کچھ مخواری کرتے ہیں اور نہ کسی غمخوار کو نیک ظنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ خیال کرنا چاہئیے کہ غمخواری دینی کا کیسا موقعہ تھا۔ اور خدمت گزاری کا کیا ضروری محل تھا کہ کتاب براہین احمد یہ کہ جس میں تین سو مضبوط دلیل سے حقیت اسلام ثابت کی گئی ہے اور ہر ایک مخالف کے عقائد باطلہ کا ایسا استیصال کیا گیا ہے کہ گویا اس مذہب کو ذبح کیا گیا کہ پھر زندہ نہیں ہوگا۔ اس کتاب کے بارے میں بجز چند عالی ہمت مسلمانوں کے جن کی توجہ سے دو حصے اور کچھ تیسرا حصہ چھپ گیا۔ جو کچھ اور لوگوں نے اعانت کی وہ ایسی ہے کہ اگر بجائے تصریح کے صرف اسی پر قناعت کریں کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون تو مناسب ہے۔ ايها الاخوان المؤمنون۔ مالكم لا تتوجهون۔ شوقناكم فلم تشتاقوا۔ ونبهناكم فلم تتنبهوا ۔ اسمعوا عباد الله اسمعوا۔ انصروا توجروا۔ وفي الانصار تبعثوا۔ وفي الدارين ترحموا۔ وفي مقعد صدق تقعدوا۔ رحمنا الله واياكم هو مولانا نعم المولى ونعم النصير۔ اور اگر کوئی اب بھی متوجہ نہ ہو تو خیر ہم بھی ارحم الراحمین سے کہتے ہیں اور اس کے پاک وعدے ہم غریبوں کو تسلی بخش ہیں۔ اور اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جز تک بڑھادی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپے دوسری قوموں اور خواص کے لئے یه اشتهار طبع اول ۱۸۸۲ ء اور طبع دوم ۱۹۰۰ ء میں نہیں ہے صرف طبع سوم ۱۹۰۵ء میں ہے۔ (شمس)