براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 72
روحانی خزائن جلد 1 ۷۰ براہین احمدیہ حصہ دوم L حیات فانی کا مقصد اصلی ہیں لمبے لمبے تاملوں میں پڑ جاتے ہیں زبان سے تو کہتے ہیں جو ہم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں پر حقیقت میں اُن کو نہ خدا پر ایمان ہے نہ آخرت پر ۔ اگر ایک ساعت اپنے بذل اموال کی کیفیت پر نظر کریں جو خدا داد نعمتوں کو اپنے نفس امارہ کے فربہ کرنے کے لئے ایک برس میں کس قدر خرچ کر ڈالتے ہیں اور پھر سوچیں جو خلق اللہ کی بھلائی اور بہبودی کے لئے ساری عمر میں خالصاً اللہ کتنے کام کئے ہیں تو اپنے خیانت پیشہ ہونے پر آپ ہی رو دیں۔ پر ان باتوں کو کون سوچے اور وہ پردے جو دل پر ہیں کیونکر دور ہوں وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍے انہیں لوگوں کی پست ہمتی متی اور دنیا پرستی پر خیال کر کے بعض ہمارے معزز دوستوں نے جو دین کی محبت میں مثل عاشق زار پائے جاتے ہیں بمقتضائے بشریت کے ہم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس صورت میں لوگوں کا یہ حال ہے تو اتنی بڑی کتاب تالیف کرنا کہ جس کی چھپوائی پر ہزار ہا روپیہ خرچ آتا ہے بے موقع تھا سوان کی خدمت والا میں یہ عرض ہے کہ اگر ہم اُن صد بادقائق اور حقائق کو نہ لکھتے کہ جو در حقیقت کتاب کے حجم بڑھ جانے کا موجب ہیں تو پھر خود کتاب کی تالیف ہی غیر مفید ہوتی ۔ رہا یہ فکر کہ اس قدر روپیہ کیونکر میسر آوے گا سواس سے تو ہمارے دوست ہم کو مت ڈراویں اور یقین کر کے سمجھیں جو ہم کو اپنے خدائے قادر مطلق اور اپنے مولیٰ کریم پر اس سے زیادہ تر بھروسا ہے کہ جو ا ممسک اور خسیس لوگوں کو اپنی دولت کے اُن صندوقوں پر بھروسا ہوتا ہے کہ جن کی تالی ہر وقت اُن کی جیب میں رہتی ہے سو وہی قادر توانا اپنے دین اور اپنی وحدانیت اور اپنے بندہ کی حمایت کے لئے آپ مدد کرے گا ۔ اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ پنا ہم آن توانا ئیست هر آن ز بخل نا توانانم مترسان مطبوعہ سفیر ہند امرت سر الرعد : ۳۴ ٢ البقرة : ۱۰۷