براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 62
روحانی خزائن جلد 1 ۶۰ براہین احمدیہ حصہ دوم اسباب ظاہری مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ لے کہنا پڑا۔ خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں یہ تصدیق اپنے قانون قدرت کے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى کے کا حم فرمایا۔ مگر افسوس جو مسلمانوں میں سے بہتوں نے اس اصول متبرک کو فراموش کر دیا ہے اور ایسی اصل عظیم کو کہ جس پر ترقی اور اقبال دین کا سارا مدار تھا بالکل چھوڑ بیٹھے ہیں اور دوسری قو میں کہ جن کی الہامی کتابوں میں اس بارے ؟ رے میں کچھ تاکید بھی نہیں تھی وہ اپنی دلی تدبیر سے اپنے دین کی اشاعت کے شوق سے مضمون تَعَاوَنُوا پر عمل کرتی جاتی ہیں اور خیالات مذہبی ان کے بباعث قومی تعاون کے روز بروز زیادہ سے زیادہ پھیلتے چلے جاتے ہیں ۔ آج کل عیسائیوں کی قوم کو ہی دیکھو جو اپنے دین کے پھیلانے میں کس قدر دلی جوش رکھتے ہیں اور کیا کچھ محنت اور جانفشانی کر رہے ہیں ۔ لاکھ ہا روپیہ بلکہ کروڑہا ان کا صرف تالیفات جدیدہ کے چھپوانے اور شائع کر نیکی غرض سے جمع رہتا ہے۔ ایک متوسط دولتمند یورپ یا امریکہ کا اشاعت تعلیم انجیل کیلئے اس قدر رو پید اپنی گر قدر رو پید اپنی گرہ سے خرچ کر دیتا ۔ اہل اسلام کے اعلیٰ سے اعلیٰ دولت مندم دولت مند من حيث الجموع المجموع بھی اسکی برابری نہیں کر سکتے ہوں تو مسلمانوں کا اس ملک ہندوستان میں ایک بڑا گر وہ ہے اور بعض بعض متمول اور صاحب توفیق بھی ہیں مگر امور خیر کی بجا آوری میں (باستثنائے ایک جماعت قلیل اُمراء اور وزراء اور عہدہ داروں کے ) اکثر لوگ نہایت درجہ کے پست ہمت اور منقبض الخاطر اور تنگ دل ہیں کہ جن کے خیالات محض نفسانی خواہشوں میں محدود ہیں اور جن کے دماغ استغنا کے موادر دیہ سے متعفن ہو رہے ہیں ۔ یہ لوگ دین اور ضروریات دین کو تو کچھ چیز ہی نہیں سمجھتے ۔ ہاں ننگ و نام کے موقعہ پر سارا گھر بار لٹانے کو بھی حاضر ہیں ۔ خالصاً دین کیلئے عالی ب ہمت مسلمان ( جیسے ایک سیدنا و مخدومنا حضرت خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب بہادر وزیر اعظم پٹیالہ ) اس قدر تھوڑے ہیں کہ جن کو انگلیوں پر بھی شمار کرنے کی حاجت نہیں ۔ الصف : ۱۵ ۲ المائدة : ۳ ہے جو