براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 679 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 679

۔کیونکہ جب وہ اپنا معاملہ تجھ پر چھوڑ دیتا ہے تو پھر کیوں غیروں کی طرف توجہ <mark>کر</mark>ے۔تیری ذات <mark>پا</mark>ک کا ہمارے لئے دوست ہونا کافی ہے۔<mark>دل</mark> بھی ایک ہے جان بھی ایک ہے محبوب بھی ایک ہونا چاہیے۔<mark>جو</mark> پوشیدگی میں تجھ سے تعلق رکھتا ہے تیری رحمت کھلم کھلا اس پر مہربانی <mark>کر</mark>تی ہے۔<mark>جو</mark> صدق اور اخلاص سے تیری چوکھٹ پکڑتا ہے تو اس کے در و بام سے نور کی بارش برستی ہے۔جس نے تیرا ہاتھ پکڑا وہ کامیاب ہوگیااور اس کی کامیابی کی سو امیدیں بندھ گئیں۔جس نے تیری راہ ڈھونڈی اس نے <mark>پا</mark> لیا۔وہ چہرہ نورانی ہو گیا جس نے تجھ سے سرکشی نہ کی۔مگر <mark>جو</mark> تیرے قرب کے سایہ سے بھاگا وہ جس دروازہ پر بھی گیا ذلت دیکھی۔اے میرے خداوند! میرے گناہ بخش دے اور اپنی درگاہ کی طرف مجھے راستہ دکھا۔میری جان اور میرے <mark>دل</mark> میں روشنی دے اور مجھے میرے مخفی گناہوں سے <mark>پا</mark>ک <mark>کر</mark>۔<mark>دل</mark> ستانی <mark>کر</mark> اور <mark>دل</mark> ربائی دکھا۔اپنی ایک نظر <mark>کر</mark>م سے میری مشکل کشائی <mark>کر</mark>۔دونوں عالم میں تو ہی میرا پیارا ہے اور <mark>جو</mark> چیز میں تجھ سے چاہتا ہوں وہ بھی تو ہی ہے صفحہ ۱۷۔میرے <mark>دل</mark> میں اُس سردار کی تعریف <mark>جو</mark>ش مار رہی ہے <mark>جو</mark> <mark>خوبی</mark> میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔وہ جس کی جان خدائے ازلی کی عاشق ہے وہ جس کی روح اُس <mark>دل</mark>بر میں واصل ہے۔وہ <mark>جو</mark> خدا کی مہربانیوں سے اس کی طرف کھینچا گیا ہے اور خدا کی گود میں ایک بچے کی مانند پلا ہے۔وہ <mark>جو</mark> نیکی اور بزرگی میں ایک بحر عظیم ہے اور کمالِ <mark>خوبی</mark> میں ایک نایاب موتی ہے۔وہ <mark>جو</mark> بخشش اور سخاوت میں اَبرِ بہار ہے اور فیض وعطا میں ایک سورج ہے صفحہ ۱۸۔وہ رحیم ہے اور رحمتِ حق کا نشان ہے وہ <mark>کر</mark>یم ہے اور بخشش ِ خداوندی کا مظہر ہے۔اُس کا مبارک چہرہ ایسا ہے کہ اُس کا ایک ہی جلوہ بدصورت کو حسین بنا دیتا ہے۔وہ ایسا روشن ضمیر ہے جس نے روشن <mark>کر</mark> دیا سینکڑوں سیاہ <mark>دل</mark>وں کو ستاروں کی طرح۔وہ ایسا مبارک قدم ہے کہ اس کی ذات خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت بن <mark>کر</mark> آئی ہے