براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 415
روحانی خزائن جلد 1 ۴۱۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم اگر چہ خدا نے اپنی قدرت کاملہ سے انسان کو عدم محض سے بنایا۔ پھر اس کو زبان عطا ۳۳۷ بقیه حاشیه نمبر ـراا ا ا کی ۔ آنکھیں دیں۔ کان دیئے اور طرح طرح کی ترقیات کے لئے استعداد بخشی ہیں اس مرتبہ بے بے نظیری پر سمجھا جائے کہ انسانی قوتیں ان کی مثل بنانے سے عاجز ہیں مگر ان اعلیٰ درجہ کی خوبیوں کو کہ جو کئی درجہ گلاب کے پھول کی ظاہری و باطنی خوبیوں سے افضل و بہتر اور قوی الثبوت ہیں ایسا خیال کیا جائے کہ گویا انسان ان کی نظیر بنانے پر قادر ہے۔ حالانکہ جس حالت میں انسان میں یہ قدرت نہیں پائی جاتی کہ ایک گلاب کے پھول کی جو صرف ایک ساعت تر و تازہ اور خوشنما نظر آتا ہے اور دوسری ساعت میں نہایت افسردہ اور پژمردہ اور بدنما ہو جاتا ہے اور اس کا وہ لطیف رنگ اڑ جاتا ہے اور اس کے پات ایک دوسرے سے الگ ہو کر گر پڑتے ہیں نظیر بنا سکے تو پھر ایسے حقیقی پھول کا مقابلہ کیونکر ہو سکے جس کے لئے مالک از لی نے بہار جاوداں رکھی ہے اور جس کو ہمیشہ بادخزاں کے صدمات سے محفوظ رکھا ہے اور جس کی ۳۴۷ طراوت اور ملائمت اور حسن اور نزاکت میں کبھی فرق نہیں آتا اور کبھی افسردگی اور پژمردگی اس کی ذات بابرکات میں راہ نہیں پاتی بلکہ جس قدر پرانا ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی تازگی اور طراوت زیادہ سے زیادہ کھلتی جاتی ہے اور اس کے عجائبات زیادہ سے زیادہ منکشف ہوتے جاتے ہیں اور اس کے حقائق دقائق لوگوں پر بکثرت ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ تو پھر ایسے حقیقی پھول کے اعلی درجہ کے فضائل اور مراتب سے انکار کرنا پرلے درجہ کی کور باطنی ہے یا نہیں ۔ بہر حال اگر کوئی ایسا ہی نابینا ہو کہ جو اپنی اس کو ر باطنی سے ان خوبیوں کی شان عظیم کو نہ سمجھتا ہو تو یہ بار ثبوت اسی نادان کی گردن پر ہے کہ جو کچھ ہم نے بے نظیری کلام الہی کا ثبوت دیا ہے اور جس قدر ہم نے وجوہ متفرقہ سے اس پاک کلام کا انسانی طاقتوں سے بلند تر ہونا کرتی ہے اور حلم کو درمیان سے اٹھا لیتی ہے خلاصہ یہ کہ تحقیق عمیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسان اس دنیا میں بہت سی مختلف قوتوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور اس کا کمال فطرتی یہ ہے کہ ہر یک قُوت کو اپنے اپنے موقعہ پر استعمال میں لاوے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ۔