براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 356

روحانی خزائن جلد 1 ۳۵۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۰۵ ضعیف کا فرق ہوتا ہے وہ ضرور ہے کہ کلام میں ظاہر ہو یعنے جو کلام اعلیٰ طاقت ، حاشیه نمبــ مبراا خدا کے پاک نبیوں کے نفوس قدسیہ کو اپنے نفس امارہ پر قیاس کر کے دنیا کے لالچوں سے آلودہ سمجھتا ہے حالانکہ کلام الہی کے مقابلہ پر آپ ہی جھوٹا اور ذلیل اور رسوا ہو رہا ہے ایسے شخص کی شقاوت اور بد بختی پر خو بدبختی پر خود اس کی روح گواہ ہو جاتی ہے کہ جو اس کو ہر وقت ملزم کرتی رہتی ہے اور بلا شبہ وہ خدا کے حضور میں اپنی بے ایمانی کا پاداش پائے گا کیونکہ جو شخص نہایت سخت اور جلانے والی دھوپ میں کھڑا ہے وہ ظل ظلیل کا آرام نہیں پاسکتا۔ سو اگر چہ نصیحت ایسا تیر نہیں ہے کہ چھوٹتے ہی پار ہو جائے لیکن جس کام کے اختیار کرنے میں صریح دنیا کی رسوائی نظر آتی ہے اور آخر کی بدبختی بھی ٹلنے والی چیز نہیں اس کام کو کیوں ایسے لوگ اختیار کریں جن کا یہ دعوی ہے جو ہم عقل کی راہوں پر چلنا چاہتے ہیں بالخصوص برہمو سماج کے بعض متین اور شائستہ لوگ جو ذی علم اور لائق آدمی ہیں ان کی حکیمانہ طبیعت پر ہمیں قوی امید ہے کہ وہ بصدق دلی ان تمام صداقتوں کو جن کی سچائی اس حاشیہ میں ثابت ہو چکی ہے۔ قبول کر لیں گے بلکہ میں یہ امید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے جو ایسے لوگ بہ تمام و کمال سے نسبت دینا کمال درجہ کی کج فہمی اور غایت درجہ کی بدنصیبی ہے کیونکہ وہ دنیا کے ذلیل جیفہ ۳۰۵ خواروں کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتے بلکہ وہ آفتاب اور چاند کی طرح آسمانی نور ہیں اور حکمت الہیہ کے قانون قدیم نے اسی غرض سے ان کو پیدا کیا ہے کہ تا دنیا میں آ کر دنیا کو منور کریں۔ یہ بات بتوجہ تمام یا درکھنی چاہئے کہ جیسے خدا نے امراض بدنی کے لئے بعض ادویہ پیدا کی ہیں اور عمدہ عمدہ چیزیں جیسے تریاق وغیرہ انواع اقسام کے آلام استقام کے لئے دنیا میں موجود کی ہیں اور ان ادویہ میں ابتدا سے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جب کوئی بیمار بشرطیکہ اس کی بیماری درجہ شفایابی سے تجاوز نہ کر گئی ہو ان دواؤں کو برعایت پر ہیز وغیرہ شرائط استعمال کرتا ہے تو اس حکیم مطلق کی اسی پر عادت جاری ہے کہ اس بیمار کو حسب استعداد اور قابلیت کسی قدر صحت اور تندرستی سے حصہ بخشتا ہے یا بکلی شفا عنایت کرتا ہے اسی طرح خداوند کریم نے نفوس طیبہ ان مقربین ۳۰۵