براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 343
روحانی خزائن جلد 1 ۳۴۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم کاش مسئله خواص الاشیاء حق کا یاد رکھتے۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ ۲۹۴ بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ تسلی اور تشفی اور تسکین خاطر کا کہ جو جذبات نفسانی اور آلام روحانی کو دور کرنے والا ہو صرف خدا کے کلام سے حاصل ہو سکتا ہے اور قانون قدرت پر نظر ڈالنے سے اس سے عمدہ تر موجب تسلی و تشفی کا اور کوئی امر قرار نہیں پاسکتا جب کوئی آدمی خدا کے کلام پر پورا پورا ایمان لاتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی درمیان نہیں ہوتا تو خدا کا کلام اس کو بڑے بڑے گردابوں میں سے بچالیتا ہے اور سخت سخت جذبات نفسانی کا مقابلہ کرتا ہے اور بڑے بڑے پر دہشت حادثوں ۲۹۴ میں صبر بخشتا ہے جب دانا انسان کسی مشکل یا جذ بہ نفسانی کے وقت میں خدا کے کلام میں وعد اور وعید پاتا ہے یا کوئی دوسرا اسے سمجھاتا ہے کہ خدا نے ایسا فرمایا ہے تو ایکبارگی اس سے ایسا متاثر ہو جاتا ہے کہ تو بہ پر تو بہ کرتا ہے۔ انسان کو خدا کی طرف سے تسلی پانے کی بڑی بڑی حاجتیں پڑتی ہیں بسا اوقات وہ ایسی سخت مصیبت میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ اگر خدا کا کلام آیا نہ ہوتا اور اس کو اپنی اس بشارت سے مطلع نہ کرتا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ لے تو وہ بے حوصلہ ہو کر شاید خدا کے وجود سے ہی انکار کرتا اور یا نا امیدی کی حالت میں خدا سے بکلی رابطہ توڑ دیتا اور یا غموں کے صدمہ سے ہلاک ہو جاتا ۔ اسی طرح جذبات نفسانی ایسے ہیں کہ جن کی کسر ثور ان کے لئے خدا کے کلام کی ضرورت تھی اور قدم قدم میں انسان کو وہ امور پیش آتے ہیں جن کا تدارک صرف خدا کا کلام کر سکتا ہے جب انسان خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو صد با موانع اس کو اس توجہ سے روکتے ہیں کبھی اس دنیا کی لذت یاد ہوتی ہے کبھی ہم مشربوں کی صحبت دامن کھینچتی ہے کبھی اس راہ کی تکالیف ڈراتی ہیں کبھی قدیمی عادات اور ملکات راسخہ سنگ راہ ہو جاتی ہیں کبھی تنگ کبھی نام کبھی ریاست کبھی حکومت اس راہ سے روکنا چاہتی ہے اور کبھی یہ سارے ایک لشکر کی طرح اس کا جواب بھی یہی ہے کہ خدا کی طرف سے سچا نجات دہندہ وہ شخص ہے جس کی متابعت ۲۹۴ سے سچی نجات حاصل ہو یعنی خدا نے اس کے وعظ میں یہ برکت رکھی ہو کہ کامل پیرو البقرة : ۱۵۶ تا ۱۵۸