براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 312

روحانی خزائن جلد 1 ۳۱۰ براہین احمد یہ حصہ سوم بذریعہ تجارب متواترہ ثابت بھی ہو گیا تو اس سے انکار کرنا اگر حمق اور دیوانگی نہیں تو بقیه حاشیه نمبر ا ا ۲۷۸) اور کیا ہے۔ اور سب سے زیادہ تر حمق یہ ہے کہ حضرت باری کے خواص صفات اور افعال سے انکار کیا جائے ۔ کیونکہ دوسری چیزوں کا خاصہ کہ جو ان کے غیر میں نہیں پایا جا تا محض تجربہ سے ثابت ہوتا ہے اور کوئی عقلی دلیل اس کی ضرورت پر قائم نہیں ہوتی ۔ مگر جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں خدا کے خواص کا ضروری ہونا مد ہوش یا دیوانہ ہیں یا تمام حواس بیک دفعہ مع ا بیک دفعہ معطل اور بیکار ہو گئے ہیں کہ سنایا گیا ؟ سنایا گیا پھر نہیں سنتے ۔ اور سمجھایا گیا پھر نہیں سمجھتے۔ اور دکھایا گیا پھر نہیں دیکھتے۔ اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہم ان کا بھی سراسر لغو اور نا بیہودہ ہے کہ تحقیقات کا سلسلہ ہمیشہ آگے سے آگے ہی چلا جاتا ہے اور کسی حد پر آ کر ختم نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو کوئی کام دنیا اور دین کا کبھی اختتام کو نہ پہنچتا اور کسی حج کے لئے ممکن نہ ہوتا کہ کوئی مقدمہ قطعی طور پر فصل کر سکےاور کم عدالت بوجہ اتنا دائی غیر مک اور ناجائز ٹھر جاتا مگر یا یہ درست ہے کہ حقائق کل اشیاء کبھی اور کسی طرح پر صفائی اور درستی سے منکشف نہیں ہوتیں اور ہمیشہ کلام اور بحث کرنے کی جگہ باقی رہتی ہے ۔ حاشا و گلا ہرگز یہ رائے صحیح نہیں بلکہ اسی وقت تک کوئی واقعہ مشتبہ رہتا ہے اور صفائی سے ثابت نہیں ہوتا جب تک کسی امر کے دریافت کرنے میں مدار کار صرف اکیلی عقل پر ہوتا ہے اور جبھی کہ کوئی رفیق ان ضروری رفیقوں میں سے جن میں سے ایک وحی رسالت ہے کہ جو امور ماوراء المحسوسات اور عالم معاد کا مخبر ہے عقل کو مل جاتا ہے تو تب تحقیقات عقلی مرتبہ یقین کامل تک پہنچ جاتی ہے۔ سو کبھی عقل الہام کامل کی رفاقت سے اور کبھی متواتر تجارب کی شہادت سے اور کبھی مضبوط اور محکم تاریخی گواہوں سے یعنے جیسا کہ موقع ہو کسی رفیق کے ذریعہ سے کامل یقین کو پالیتی ہے ۔ ہاں اگر عقل کو اس راہ کا رفیق میسر نہ آوے جس راہ پر وہ چلنا چاہتی ہے تو تب مرتبہ یقین کامل تک بلا شبہ نہیں پہنچتی بلکہ غایت کا رظن غالب تک پہنچتی ہے۔ لیکن جب راه مقصود کا رفیق میسر آجائے تو بلا ریب وہ اس کو مرتبہ کامل یقین تک پہنچا دیتا ہے۔ ہے وہی خیال آپ قرآن شریف کی نسبت گھسیٹ لائے ۔ اتنا بڑا جھوٹ آپ نے مدت العمر بولا نہیں ہوگا کہ جو آب عیسائیوں کے خوش کرنے کے لئے بول اٹھے۔ بہرحال یہ مقولہ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ نوٹ: مضمون کے تسلسل کے لئے دیکھئے صفحہ ۳۲۳ براہین احمد یہ حصہ چہارم (شمس)