براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 306
روحانی خزائن جلد 1 ۳۰۴ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۷۳ قسم کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ صرف طالب حق پر یہ لازم ہے کہ اپنی حسب مرضی ۲۷۴ بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ سے عقل کے عمدہ جوہر کو پسند کرتے ہیں بلکہ خود الہام ہی ان کو عقل کے پختہ کرنے کے لئے تاکید کرتا ہے۔ پس ان کو عقلی ترقیات کے لئے دوہری کشش کھینچتی ہے ایک تو فطرتی جوش جس سے بالطبع انسان ہر یک چیز کی م ماہیت اور حقیقت کو مدلل اور عقلی طور پر جانا چاہتا ہے دوسری الہامی تاکیدیں کہ جو آتش شوق کو دوبالا کر دیتی ہیں۔ چنانچہ جو لوگ قرآن شریف کو نظر سرسری سے بھی دیکھتے ہیں وہ بھی اُس بدیہی امر سے پڑ گیا اور قطعی طور پر کچھ سمجھ نہ آیا او پر کچھ سمجھ نہ آیا اور خود اصول میں ہی یہودیوں اور نصاریٰ میں طرح طرح کے تنازعات پیدا ہو گئے ۔ اسی توریت سے یہودیوں نے کچھ سمجھا اور عیسائیوں نے کچھ خیال کیا تو اس حالت میں کون حق کا طالب ہے جس کی روح اس بات کو نہیں چاہتی کہ بے شک رحمت عامہ حضرت باری کا یہی مقتضا تھا کہ وہ ان گم گشتہ فرقوں کے تنازعات کا آپ فیصلہ کرتا اور خطا کار کو اس کی خطا کاری پر متنبہ فرماتا۔ پس سمجھنا چاہئے کہ قرآن شریف کے نزول کی یہی ضرورت تھی کہ تا وہ اختلافات کو دور کرے اور جن صداقتوں کے ظاہر ہونے کا بباعث انتشار خیالات فاسدہ کے وقت آگیا تھا ان صداقتوں کو ظاہر کر دے اور علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچادے۔ سو اس پاک کلام نے نزول فرما کر ان سب مراتب کو پورا کیا اور سب بگاڑوں کو درست فرمایا اور تعلیم کو اپنے حقیقی کمال تک پہنچایا۔ نہ دانت کے عوض خواہ نخواہ دانت نکالنے کا حکم دیا اور نہ ہمیشہ مجرم کے چھوڑنے اور عفو کرنے پر فرمان صادر کیا بلکہ حقیقی نیکی کے بجالانے کے لئے تاکید فرمائی ۔ خواہ وہ نیکی کبھی درشتی کے لباس میں ہوا اور خواہ کبھی نرمی کے لباس میں اور خواہ کبھی انتقام کی صورت میں ہو اور خواہ کبھی عفو کی صورت میں ۔ از نور پاک قرآن صبح صفا دمیده بر غنچہائے دلہا بادصبا وزیده این روشنی و لمعان شمس الضحی ندارد و این دلبری و خوبی کس در قمر ندیده یوسف بقعر چاہے محبوس ماند تنہا و این یوسفی که تن ها از چاه برکشیده