براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 296
روحانی خزائن جلد 1 ۲۹۴ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۶۵) عبارت بھی ایسی بلیغ اور فصیح ہو جیسی قرآن کی تو تم کو اس عجز کی وجہ سے سزائے موت ۲۶۵ ۲۶۵ قیه حاشیه نمبر ا ا بقیه ح حاشیه در حاشیه نمبر ا حاشیه در حاشیه نمبر ۲ ہیں کہ گویا خدا نے ان کو وہ قوتیں عطا ہی نہیں کیں ۔ سو بالآخر عدم استعمال کے باعث سے وہ تمام قوتیں رفتہ رفتہ ضعیف بلکہ قریب قریب مفقود کے ہوتی جاتی ہیں اور انسانی سرشت با لکل منقلب ہو کر حیوانات سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے اور نفس انسانی کا عمدہ نازل ہو۔ وہ اس کے لئے اور ہر ایک کے لئے کہ کوئی وجہ یقین کرنے کی رکھتا ہے یا خدا نے کوئی نشان یقین کرنے کا اس پر ظاہر کر دیا ہے۔ واجب التعمیل ہے اور جو شخص جس کو اُس الہام کی نسبت باور دلایا گیا ہے۔ اس پر عمل کرنے سے عمداً دست کش ہو وہ مورد غضب الہی ہوگا۔ بلکہ اس کے خاتمہ بد ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔ بلعم بن بعور کو خدا نے الہام میں لا تدع عليهم کہا۔ یعنی یہ کہ موسیٰ اور اس کے لشکر پر بد دعامت کر۔ اس نے برخلاف امر الہی کے حضرت موسیٰ کے لشکر پر بددعا کرنے کا ارادہ کیا آخر اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ خدا نے اس کو اپنی جناب سے رد کر دیا اور اس کو کتے سے تشبیہ دی وہ الہام ہی تھا جس کی تعمیل سے حضرت موسیٰ کی ماں نے حضرت موسیٰ کو شیر خوارگی کی حالت میں ایک صندوق میں ڈال کر دریا میں پھینک دیا ۔ الہام ہی تھا جس کے دیکھنے کے لئے موسیٰ جیسے اولوالعزم پیغمبر کو خدا نے اپنے ایک بندہ خضر کے پاس جس کا نام بلیا بن ملکان تھا بھیجا تھا جس کے علم قطعی اور یقینی کی نسبت اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا: فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْتُهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا لے سو اسی علم قطعی اور یقینی کا یہ نتیجہ تھا کہ خضر نے حضرت موسیٰ کے روبرو ایسے کام کئے کہ جو ظاہراً خلاف شرع معلوم ہوتے تھے۔ کشتی کو توڑا، ایک معصوم بچہ کو قتل کیا، ایک غیر ضروری کام کو کسی اجرت کے بغیر اپنے گلے ڈال لیا اور ظاہر ہے تک پہنچا سکے۔ مگر افسوس کہ اس اندھی اور بے تمیز دنیا میں ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں کہ جو خدا کو اپنا اصلی مقصود ٹھہرا کر اور تعصب مذہبی اور قومی اور دوسرے دنیوی لالچوں سے الگ ہو کر اس روشنی اور صداقت کو قبول کریں کہ جو خدائے تعالیٰ نے خاص قرآن شریف میں رکھی ہے جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتی۔ ل الكهف : ٦٦