براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 294
روحانی خزائن جلد 1 ۲۹۲ براہین احمد یہ حصہ سوم ۲۶۳ صرف دو چار سطر کا کوئی مضمون لے کر اسی کے برابر یا اس سے بہتر کوئی نئی عبارت ۲۶۳ علیہ وسلم کی کامل حالت سے بکلی مندفع ہوگیا۔ کیونکہ وجود با جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر یک نبی کے لئے مستقم اور مکمل ہے اور اس ذات عالی - اور عمل ہے اور اس ذات عالی کے ذریعہ سے جو کچھ امر مسیح اور دوسرے نبیوں کا مشتبہ اور خفی رہا تھا۔ وہ چمک اٹا مخفی رہا تھا ۔ وہ چمک اٹھا۔ اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کر کے وحی اور رسالت پر کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود باجود پرختم ہوگئے ۔ وهذا فضل الله يؤتيه من يشاء۔ وسوسہ دہم ۔ بعض کو یہ فکر لوگ یہ وسوسہ پیش کرتے ہیں کہ الہام میں یہ خرابی اور نقص ہے کہ وہ معرفت کامل تک پہنچنے سے کہ جو حیات ابدی اور سعادت دائمی کے حصول کا مدار علیہ ہے مانع کوئی روحانی برکت اور آسمانی تائید اپنی شامل حال رکھتا ہے ۔ کیا کوئی زمین کے اس سرے سے اس سرے تک ایسا متنفس ہے کہ قرآن شریف کے ان چمکتے ہوئے نوروں کا مقابلہ کر سکے۔ کوئی نہیں ایک بھی نہیں ۔ بلکہ وہ لوگ ج ، جو اہل کتاب کہلاتے ہیں ان کے ہاتھ میں بھی بجز باتوں ہی باتوں کے اور خاک بھی نہیں ۔ حضرت موسیٰ کے پیرو یہ کہتے ہیں کہ جب سے حضرت موسیٰ اس دنیا سے کوچ کر گئے تو ساتھ ہی ان کا عصا بھی کوچ کر گیا کہ جو سانپ بنا کرتا تھا اور جو لوگ حضرت عیسی کے اتباع کے مدعی ہیں ۔ ان کا یہ بیان ہے کہ جب حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے تو ساتھ ہی ان کے وہ برکت بھی اٹھائی گئی جس سے حضرت ممدوح مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے ۔ ہاں عیسائی یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کے باراں حواری بھی کچھ کچھ روحانی برکتوں کو ظاہر کیا کرتے تھے۔ لیکن بقیه حاشیه در حاشیه یه نمبر ان کا یہ بھی تو قول ہے کہ وہی عیسائی مذہب کے باراں امام آسمانی نوروں اور الہاموں کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے بعد آسمان کے دروازوں پر چپکے قفل لگ گئے اور پھر کسی عیسائی پر وہ کبوتر نازل نہ ہوا کہ جو اول حضرت مسیح پر نازل ہو کر پھر آگ کے شعلوں کا بہروپ بدل کر حواریوں پر نازل ہوا تھا۔ گویا ایمان کا وہ نورانی دانہ کہ جس کے شوق میں وہ آسمانی کبوتر اترا کرتا تھا انہیں کے ہاتھ میں تھا اور پھر بجائے اس دانہ کے عیسائیوں کے ہاتھ میں دنیا کمانے کی بھائی رہ گئی جس کو دیکھ کر وہ کبوتر آسمان کی طرف اڑ گیا ۔ غرض بجز قرآن شریف کے اور کوئی ذریعہ آسمانی نوروں کی تحصیل کا موجود نہیں اور خدا نے اس غرض سے کہ حق اور باطل میں ہمیشہ کے لئے ما بہ الامتیاز قائم