براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 279

روحانی خزائن جلد 1 ۲۷۷ براہین احمدیہ حصہ سوم کر کے دکھلا دیں تو ہم اسکو قرآن شریف میں سے نکال دیں گے بشرطیکہ اسی کتاب کی اثناء طبع ۲۵۰ بقیه حاشیه نمبــ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا اور اولیاء کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا لوگ جمیع اخلاق میں ان کی پیروی کریں اور جن امور پر خدا نے ان کو استقامت بخشی ہے اسی جادۂ استقامت پر سب حق کے طالب قدم ماریں اور یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ اخلاق فاضلہ کسی انسان کے اس وقت بہ پایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوں اور اسی وقت دلوں پر ان کی تاثیریں بھی ہوتی ہیں ۔ مثلاً عفوہ معتبر اور قابل تعریف ہے کہ جو قدرت انتقام کے وقت میں ہو۔ اور پر ہیز گاری وہ قابل اعتبار ہے۔ کہ جو نفس پروری کی قدرت موجود ہوتے ہوئے پھر پرہیز گاری قائم رہے۔ غرض خدائے تعالیٰ کا ارادہ انبیاء اور اولیاء کی نسبت ۲۵۱ اب ایک دوسری رویا سنئے ۔ عرصہ تخمینا بارہ برس کا ہوا ہے کہ ایک ہند و صاحب کہ جواب آریہ سماج قادیان کے ممبر اور صحیح و سلامت موجود ہیں حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آنجناب کی پیشین گوئیوں سے سخت منکر تھا اور اس کا پادریوں کی طرح شدّت عناد سے یہ خیال تھا کہ یہ سب پیشگوئیاں مسلمانوں نے آپ بنالی ہیں۔ ورنہ آنحضرت پر خدا نے کوئی امر غیب ظاہر نہیں کیا اور ان میں یہ علامت نبوت موجود ہی نہیں تھی ۔ مگر سبحان اللہ کیا فضل خدا کا اپنے نبی پر ہے اور کیا بلند شان اس معصوم اور مقدس نبی کی ہے کہ جس کی صداقت کی شعاعیں اب بھی ایسی ہی چمکتی ہیں کہ جیسی قدیم سے چمکتی آئی ہیں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اس ہندو صاحب کا ایک عزیز کسی ناگہانی بیچ میں آکر قید ہو گیا اور اس کے ہمراہ ایک اور ہندو بھی قید ہوا۔ اور ان دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گزرا۔ اس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اس آر یہ صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلا سکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے۔ تب میں نے جواب دیا کہ غیب تو خاصہ خدا کا ہے اور خدا کے پوشیدہ بھیدوں سے نہ کوئی نجومی واقف ہے نہ رمال نہ فال گیر نہ اور کوئی مخلوق ۔ ہاں خدا جو ۲۵۱ آسمان و زمین کی ہر یک شدنی سے واقف ہے اپنے کامل اور مقدس رسولوں کو اپنے ارادہ اور اختیار سے بعض اسرار غیبیہ پر مطلع کرتا ہے۔ اور نیز کبھی کبھی جب چاہتا ۔ ا ہے۔ اور نیز بھی بھی جب چاہتا ہے تو اپنے سچے رسول کے