براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 265
روحانی خزائن جلد 1 ۲۶۳ براہین احمدیہ حصہ سوم جس سے کوئی صداقت دینی باہر نہیں ۔ بلکہ جن صداقتوں کو حکیموں نے بباعث نقصان علم و عقل غلط طور پر بیان کیا ہے ۔ قرآن شریف ان کی تکمیل و اصلاح فرماتا ہے اور ۲۳۹ بقیه ، حاشیه نمبر بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ اے ایمان لانے والو۔ اگر کوئی تم میں سے دین اسلام کو چھوڑ دے گا تو خدا اس کے ۲۳۹ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ عوض میں ایک ایسی قوم لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے فَسَوْفَ يَانِي اللهُ بِقَوْمٍ وہ مومنین کے آگے تذلیل اختیار کریں گے اور کافروں پر غالب اور بھاری ہوں گے يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ علی المومنین علی یعنی خدا کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ ہمیشہ یہ حل ہوتا ہے گا کہ اگرکوئی ناقص الفہم عَلَى الْكَفِرِينَ ، ان دین اسلام سے مرتد ہو جائے گا تو اُس کے مرتد ہونے سے دین میں کچھ کی نہیں الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ ہوگی بلکہ اس ایک شخص کے عوض میں خدا کئی وفادار بندوں کو دین اسلام میں داخل أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ کرے گا کہ جو اخلاص سے اس پر ایمان لائیں گے اور خدا کے محب اور محبوب سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ٹھہریں گے اور وہ تمام کافر کہ جو دین اسلام کے روکنے اور بند کرنے کے لئے ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ اپنے مالوں کو خرچ کر رہے ہیں وہ جہاں تک اُن کا بس چلے گا خرچ کریں گے۔ پر حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۔۔ وَعَدَكُمُ اللهُ مَغَانِمَ آخر کار وہ تمام خرچ ان کے لئے تأسف اور حسرت کا موجب ہوگا اور پھر مغلوب كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّل ہو جائیں گے۔ خدا نے تم کو بہت سے ملکوں کی غنیمتوں کا عطا کرنا وعدہ کیا تھا۔ لَكُمْ هَذِهِ وَ كَفَّ سوان میں سے ایک پہلا امر یہ ہوا کہ خدا نے یہودیوں کے قلعے معہ تمام مال و أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمُ اسباب تم کو دے دیئے اور مخالفوں کے شر سے تم کو امن بخشا تا مومنین کے لئے یہ وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِين ۔ سے ایک نشان ہو اور خدا تم کو دوسرے ملک بھی یعنی فارس اور روم وغیرہ عطا کرے گا۔ لطیف الفاظ میں بلکہ کبھی کسی ایسی زبان میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ بندہ نا آشنا محض ہے ۔ اور کبھی امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہیں اور کبھی اس کے ذریعہ سے مواہب عظیمہ کی بشارت ملتی ہے اور منازل عالیہ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ اور قرب حضرت باری کی مبارکبادی دی جاتی ہے اور کبھی دنیوی برکتوں کے بارے میں پیشگوئی ہوتی ہے تو ان کلمات لطیفہ و بلیغہ کے سننے سے کہ جو مخلوق کی قوتوں سے نہایت بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں ۔ جس قدر ذوق اور معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ اس کو وہی بندہ جانتا ہے جس کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے۔ فی الحقیقت وہ خدا کو ایسا ہی شناخت کر لیتا ہے جیسے کوئی شخص ۲۶۳ المائدة : ۵۵ ۲ الانفال: ۳۷ ۳ الفتح : ۲۱