براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 261
روحانی خزائن جلد 1 ۲۵۹ براہین احمد یہ حصہ سوم کر کے علم دین کے متعلق اپنے فکر اور ادراک سے کچھ صداقتیں نکالے یا کوئی بار یک ۲۳۵ دقیقہ پیدا کرے یا اسی علم کے متعلق کسی قسم کے اور حقائق اور معارف یا کسی نوع کے وَمَسْكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّتِ عَدْنٍ اور وہ محل عطا کرے گا کہ جو پاک اور جاودانی بہشتوں میں ۲۳۵ ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ وَ اخْری ہیں ۔ یہی انسان کے لئے سعادت عظمی ہے۔ اور دوسری یہ ہے تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِّنَ ا مِنَ اللهِ وَفَتْح جسے تم اسی دُنیا میں چاہتے ہو کہ خدا کی طرف سے مدد ہے۔ اور قَرِيبٌ ۔ وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا افتح قریب ہے اور ست مت ہو ۔ اور غم مت کرو۔ اور انجام کار بقيه حاشیه نمبر بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ ۔ ح علیہ تمہیں کو ہوگا اگر تم ایمان پر قائم رہو گے اور تم یہودیوں اور وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ عیسائیوں اور دوسرے مشرکوں سے بہت کچھ دل دکھانے کی مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَاِن باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو گے اور ہر ایک طور کی بے صبری ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ وَ اِن اور اضطراب سے پر ہیز کرو گے تو اُن لوگوں کے مکر کچھ بھی تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ تمہارا بگاڑ نہیں سکیں گے۔ خدا نے تم میں سے بعض نیکوکار شَيْئًا ۔ ٢ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا ایمانداروں کے لئے یہ وعدہ ٹھہرا رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر وجود افراد کامله امت محمدیہ میں ثابت ہے اور انہیں سے خاص ہے ۔ ہاں یہ سچ بات ہے کہ رسولوں کا الہام بہت ہی درخشاں اور روشن اور اجلی اور اقوئی اور اصفی اور اعلیٰ اور مراتب یقین کے انتہائی درجہ پر ہوتا ہے اور آفتاب کی طرح چمک کر ہر ایک ظلمت کو اٹھا دیتا ہے مگر اولیاء کے الہاموں میں سے جب تک معانی کسی الہامی عبارت کے مشتبہ ہوں یا وہ الہام ہی مشتبہ اور مخفی ہو تب تک وہ ایک امرظنی ہوگا اور ولی کا الہام اسی وقت حد قطع اور یقین تک پہنچے گا کہ جب ضعیف الہاموں کی قسم میں سے نہ ہو بلکہ اپنی کامل روشنی کے ساتھ نازل ہو اور بارش کی طرح متواتر برس کر اور اپنے نوروں کو قوی طور پر دکھلا کر مہم کے دل کو کامل یقین سے پُر کر دے اور مختلف تقریروں اور ۲۳۵ مختلف لفظوں میں اتر کر معنے اور مطلب کو بکلی کھول دے اور عبارت کو متشابہات میں سے بکل الوجوہ باہر کر دے اور متواتر دعاؤں اور سوالوں کے وقت خود خداوند تعالیٰ ان معانی کا قطعی اور یقینی ہونا متواتر اجابتوں اور جوابوں کے ذریعہ سے بوضاحت تمام بیان فرماوے۔ جب کوئی الہام اس حد تک پہنچ جائے تو وہ کامل النور اور قطعی اور یقینی ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ اصلاً الہام اولیاء کو الصف ا ا تا ۲۱۴ ال عمران : ۱۴۰ ۳ ال عمران: ۱۸۷ ال عمران: ۱۲۱