براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 212
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۱۰ براہین احمدیہ حصہ سوم داخل نہ ہو وہ بھی بطور مفہوم کلی سمجھ سکتا ہے کہ جس کلام کو خدا کا کلام کہا جائے ۔ اس کا ه حاشيه بقیه ن میں ہو۔ اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِ مو دخل نہ ہو۔ اور پھر جمیع اعضاء کی وضع استقامت پر چلانے کے لئے ایک ایسا کلمہ جامعہ اور پُر تہدید بطور تنبیہ و انذار فرمایا جو غافلوں کو متنبہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور کہا۔ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا الجزء نمبر ۱۵ ۔ یعنی کان اور آنکھ اور دل ایسا ہی تمام اعضاء اور قوتیں جو انسان میں موجود ہیں ۔ ان سب کے غیر محل استعمال کرنے سے باز پرس ہوگی اور ہر یک کمی بیشی اور افراط اور تفریط کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔ اب دیکھو اعضاء اور تمام قوتوں کو مجری خیر اور صلاحیت پر چلانے کے لئے کس قدر تصریحات و تاکیدات خدا کے کلام میں موجود ہیں اور کیسے ہر یک عضو کو مرکز اعتدال اور خط استوا پر قائم رکھنے کے لئے بکمال وضاحت بیان فرمایا گیا ہے جس میں کسی نوع کا ابہام و اجمال باقی نہیں رہا۔ کیا یہ تصریح و تفصیل صحیفہ قدرت کے کسی صفحہ کو پڑھ کر معلوم ہوسکتی ہے۔ ہرگز نہیں ۔ سو اب تم آپ ہی سوچو کہ کھلا ہوا اور واضحہ صحیفہ یہ ہے یا وہ۔ اور فطرتی دلالتوں کے مصالحہ اور حدود کو اس نے بیان کیا یا اس نے ۔ اے حضرات !! اگر اشارات سے کام نکلتا تو پھر انسان کو زبان کیوں دی جاتی ۔ جس نے تم کو زبان دی کیا وہ آپ نطق پر قادر نہیں ۔ جس نے تم کو بولنا سکھایا کیا وہ آپ بول نہیں سکتا۔ جس نے اپنے فعل میں یہ قدرت دکھلائی کہ اتنا بڑا عالم بغیر مددکسی مادہ ہیولی کے اور بغیر احتیاج معماروں اور مزدوروں و نجاروں کے بجر دارادہ سب کچھ بنا ڈالا کیا اس کی نسبت یہ کہنا جائز ہے کہ وہ بات کرنے پر قادر نہیں ۔ یا قادر تو ہے مگر باعث بخل کے اپنے کلام کے فیضان سے محروم رکھا۔ کیا یہ درست ہے کہ قادر مطلق کی نسبت ایسا خیال کیا جائے کہ وہ اپنی طاقتوں میں حیوانات سے بھی فروتر ہے۔ کیونکہ ایک ادنیٰ جانور بذریعہ اپنی آواز کے دوسرے جانور کو یقینی طور پر اپنے وجود کی خبر دے سکتا ہے ۔ ایک مکھی بھی اپنی طنین سے دوسری مکھیوں کو اپنے آنے سے آگاہ کر سکتی ہے۔ پر نعوذ باللہ بقول تمہارے اس قادر مطلق میں ایک مکھی جتنی بھی قدرت نہیں ۔ پھر جب اس کی نسبت تمہارا صاف بیان بنی اسرآئیل : ۳۷