براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 210
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۰۸ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۹۲ کی کلام سے اپنی ظاہری اور باطنی خوبیوں میں برابر سمجھا ہے ۔ وما قدروا الله حق ۱۹۲ قـــــــدرہ کا مصداق ہو کر خدا کی ان عظیم الشان قدرتوں اور باریک حکمتوں کو بقیه حاشیه نمـ بھی تسلیم کیا کہ جس نے اس صحیفہ کو پڑھ کر خدا کے وجود کو ضروری نہیں سمجھا وہ اس قدر عمر پالے گا کہ کبھی نہ کبھی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جائے گا۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا تھا تو اس کو دیکھ کر ایسی بڑی بڑی غلطیاں کیوں پڑ گئیں ۔ کیا آپ کے نزدیک کھلی ہوئی کتاب اسی کو کہتے ہیں جس کو پڑھنے والے خدا کے وجود میں ہی اختلاف کریں اور بسم اللہ ہی غلط ہو۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسی صحیفہ فطرت کو پڑھ کر ہزار ہا حکیم اور فلاسفر دہرئیے اور طبعی ہوکر مرے۔ یا بتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے اور وہی شخص ان میں سے راہ راست پر آیا جو الہام الہی پر ایمان لایا۔ کیا اس میں کچھ جھوٹ بھی ہے کہ فقط اس صحیفہ کے پڑھنے والے بڑے بڑے فیلسوف کہلا کر پھر خدا کے مدبر و خالق بالا رادہ اور عالم بالجزئیات ہونے سے منکر رہے اور انکار ہی کی حالت میں مر گئے ۔ کیا خدا نے تم کو اس قدر بھی سمجھ نہیں دی کہ جس خط کے مضمون کو مثلاً زید کچھ سمجھے اور بکر کچھ خیال کرے اور خالدان دونوں کے برخلاف کچھ اور تصور کر بیٹھے تو اس خط کی تحریر کھلی ہوئی اور صاف نہیں کہلاتی بلکہ مشکوک اور مشتبہ اور مہم کہلاتی ہے۔ یہ کوئی ایسی دقیق بات نہیں جس کے سمجھنے کے لئے بار یک عقل درکار ہو بلکہ نہایت بد یہی صداقت ہے مگر ان کا کیا علاج جو سراسر محکم کی راہ سے ظلمت کو نو ر اور نور کو ظلمت قرار دیں اور دن کو رات اور رات کو دن ٹھہر اویں۔ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ مطالب دلی کو پورا پورا بیان کرنے کے لئے یہی سیدھا راستہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے کہ بذریعہ قول واضح کے اپنا مافی الضمیر ظاہر کیا جائے کیونکہ دلی ارادوں کو ظاہر کرنے کے لئے صرف قوت نطقیہ آلہ ہے۔ اسی آلہ کے ذریعہ سے ایک انسان دوسرے انسان کے مافی القلب سے مطلع ہوتا ہے۔ اور ہر یک امر جو اس آلہ کے ذریعہ سے سمجھایا نہ جائے وہ تفہیم کامل کے درجہ سے منزل رہتا ہے۔ ہزار ہا امور ایسے ہیں کہ اگر ہم ان میں فطرتی دلالت سے مطلب نکالنا چاہیں تو یہ امر ہمارے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے اور اگر فکر بھی کریں تو غلطی میں پڑ جاتے ہیں مثلاً ظاہر ہے کہ خدا نے آنکھ دیکھنے کے لئے بنائی ہے اور کان سننے کے لئے پیدا کئے ہیں۔ زبان بولنے کے لئے عطا کی ہے۔ اس قدر تو ہم نے ان اعضاء کی فطرت پر نظر کر کے اور ان کے خواص کو سوچ کر معلوم کر لیا لیکن اگر ہم اسی فطرتی